متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں نوجوانوں میں دل کے دوروں کا بڑھتا ہوا رجحان، ماہرین صحت کی وارننگ

خلیج اردو
حیدرآباد کے بیڈمنٹن کورٹ پر ایک نوجوان کے اچانک گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نوجوانوں میں دل کے دوروں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں 26 سالہ نوجوان دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک زمین پر گر جاتا ہے اور حرکت نہیں کرتا، جس پر اس کے ساتھی ابتدائی طور پر اسے پھسلنے کا واقعہ سمجھتے ہیں، مگر جب وہ نہ اٹھا تو گھبرا کر اسے قریبی اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔

یہ واقعہ بظاہر صحت مند اور متحرک نوجوانوں میں اچانک دل کے دوروں کے بارے میں نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی ایسے واقعات رپورٹ

خلیج ٹائمز کے مطابق یو اے ای میں بھی دو ایسے ہی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں ایک شخص سڑک پر چلتے ہوئے اور دوسرا کھیل کے دوران اچانک بے ہوش ہو گیا۔ دونوں کیسز میں ڈاکٹروں نے دل کی شریانوں میں شدید رکاوٹ پائی، ایک مریض میں تو 90 فیصد بلاکیج تھی، اور یہ دونوں افراد 35 سال کی عمر سے کم تھے۔

کارڈیالوجسٹس نے صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوانوں کو جلد از جلد چیک اپ کرانے کی تلقین کی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یو اے ای میں حالیہ برسوں میں 35 سال سے کم عمر افراد میں دل کے دوروں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

برجیل اسپیشلٹی ہسپتال شارجہ کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سوئے مو آنگ نے کہا کہ "یو اے ای میں دل کے امراض 10 سے 15 سال قبل از وقت ہو رہے ہیں، جو مغربی ممالک کے مقابلے میں تشویشناک ہے۔”

انہوں نے طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل اور جینیاتی وراثت کو اس خطرناک رجحان کا سبب قرار دیا۔

مدکیئر ہسپتال السفا کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر غسان نکاد نے بتایا کہ "ہم نے 20 سے 30 سال کی عمر کے افراد میں دل کے دوروں کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، یہ اب صرف بوڑھوں کی بیماری نہیں رہی۔”

علامات اور وارننگ سائن اکثر نظر انداز

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کچھ مریض ابتدائی علامات جیسے سینے میں درد، سانس کی قلت، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا وغیرہ محسوس کرتے ہیں، مگر اکثر افراد بغیر کسی علامت کے ہی دل کے دورے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض موروثی بیماریاں جیسے ہائپرٹرافک کارڈیومیوپیتھی اور برگاڈا سنڈروم بغیر علامات کے رہتی ہیں، اس لیے وقت پر سکریننگ ضروری ہے۔

خطرے کے عوامل

ڈاکٹروں نے جن عوامل کو دل کے دوروں کی بڑی وجوہات قرار دیا ان میں شامل ہیں:

  • سگریٹ نوشی اور ویپنگ

  • چکنی اور پراسیسڈ غذا

  • بیٹھے بیٹھے گزرنے والا طرز زندگی

  • ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی

  • نشہ آور اشیاء کا استعمال

  • وراثتی دل کے امراض کی عدم تشخیص

ڈاکٹر نکاد کے مطابق "یو اے ای کا تیز رفتار طرز زندگی، لمبے کام کے اوقات اور فاسٹ فوڈ پر انحصار دل کی بیماریوں کو غیر متوقع طور پر کم عمر میں بڑھا رہا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ شدید جسمانی مشقت، جیسے جم ورک آؤٹس یا کھیل کود، ان افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جنہیں دل کے پوشیدہ مسائل لاحق ہوں۔

علامات جو نظر انداز نہ کی جائیں

  • سینے میں تکلیف یا دباؤ

  • سانس کی تنگی

  • دل کی بے ترتیب دھڑکن

  • چکر آنا یا بے ہوشی

  • ورزش کے دوران جبڑوں، بازوؤں یا کمر میں درد

نوجوانوں کے لیے سکریننگ ناگزیر

ڈاکٹروں نے کہا کہ نوجوانوں، خاص طور پر جن کے خاندان میں دل کے امراض کی تاریخ ہو یا جو غیر صحت مند طرز زندگی کے عادی ہوں، انہیں لازمی سکریننگ کروانی چاہیے۔ ڈاکٹر آنگ کے مطابق "ای سی جی، ایکو کارڈیوگرام، لپڈ پروفائل، بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر جیسے بنیادی ٹیسٹ جان بچا سکتے ہیں۔”

انہوں نے مشورہ دیا کہ 20 اور 30 کی دہائی میں ہر چند سال بعد اور 40 کی عمر کے قریب ہر سال دل کی سکریننگ کروانی چاہیے۔

’چند لمحے زندگی اور موت کے درمیان فرق‘

ڈاکٹروں نے بتایا کہ عالمی سطح پر 60 فیصد دل کے دورے کے مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں جبکہ اسپتال پہنچنے والوں میں سے صرف 9 سے 16 فیصد بچ پاتے ہیں۔ تاہم اگر ابتدائی چند منٹوں میں سی پی آر اور ڈیفبریلیشن مہیا کی جائے تو بچاؤ کی شرح 90 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

نوجوانوں کے لیے وارننگ

ڈاکٹروں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیں۔ "یہ سوچ چھوڑ دیں کہ جوانی آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ورزش کریں، صاف غذا کھائیں، سگریٹ نوشی چھوڑیں، نیند پوری کریں اور سب سے اہم یہ کہ اپنے جسم کے سگنلز کو سنیں۔” ڈاکٹر آنگ نے کہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button