
خلیج اردو
تہران / یروشلم:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کی کوششوں کیلئے پس پردہ سفارتی روابط کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ذریعے ایران سے رابطہ کیا جبکہ ایران نے مبینہ طور پر قبرص کے ذریعے اسرائیل تک پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔
تاہم ایران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان میں واضح کیا کہ تہران نے کسی تیسرے ملک کے ذریعے اسرائیل کو کوئی پیغام نہیں بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پالیسی میں کسی "قابض و غاصب ریاست” سے براہ راست یا بالواسطہ رابطے کی گنجائش نہیں۔
ایران کی جانب سے یہ تردید قبرص کے صدر کے اُس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے ان سے اسرائیل کو پیغام پہنچانے کی درخواست کی تھی۔ قبرصی صدر کے مطابق یہ پیغام جنگ بندی سے متعلق تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب نے متحدہ عرب امارات کے ذریعے ایران سے کچھ نکات پر غیر رسمی رابطہ کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی حلقے خطے میں جنگ بندی کی کسی بھی کوشش کو سراہ رہے ہیں، لیکن ایران اور اسرائیل کی جانب سے ملے جلے اشارے امن کی راہ میں پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔





