
خلیج اردو
تہران، تل ابیب:
ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تیسرا اور اب تک کا سب سے شدید حملہ کیا ہے، جس میں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کی گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے "آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت کیے گئے جن میں بے گناہوں کا بدلہ لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں 7 ٹن بارودی مواد سے لدے ‘حاج قاسم سپر سانک’ ڈرونز اور 150 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے، جنہوں نے تل ابیب، حیفہ، جافا سمیت متعدد شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی قیصریہ میں واقع رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی اور اہم ریسرچ سینٹر وائزمین انسٹیٹیوٹ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 650 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 35 افراد لاپتہ ہیں۔ درجنوں عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور کئی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جس کے باعث خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اسرائیل کے 10 جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جارحیت جاری رکھی تو حملے مزید شدت اختیار کریں گے۔







