Uncategorized

دبئی میں سوئمنگ پول حادثہ: 9 سالہ بچے کو دماغی نقصان، خاندان 1 لاکھ درہم سے زائد کے علاجی اخراجات میں مبتلا

خلیج اردو

دبئی: متحدہ عرب امارات میں ایک بھارتی خاندان کے خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب ان کا 9 سالہ بیٹا علی ایک سوئمنگ پول حادثے کے بعد دماغی نقصان کا شکار ہو گیا۔ خاندان حال ہی میں دبئی منتقل ہوا تھا اور صرف چند دنوں بعد ہی علی تقریباً ڈوبنے کے باعث شدید حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

علی کی والدہ، تبسم، نے بتایا کہ ان کے چار بچوں میں سے تین کو تیراکی آتی تھی اور وہ اکثر رہائشی کمیونٹی کے مشترکہ سوئمنگ پول میں تیراکی کرتے تھے۔ حادثے کے روز بھی ان کی دو بیٹیاں (14 اور 10 سال) اور علی بڑے پول میں کھیل رہے تھے، جب کہ سب سے چھوٹی بیٹی بچوں کے پول میں تھی۔ والدین کا دھیان چھوٹی بیٹی پر تھا، اسی لیے انہوں نے بڑے بچوں کو خودمختار سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

تبسم کے مطابق، جب ان کی بڑی بیٹی چند منٹوں کے لیے بچوں کے پول میں آئی اور پھر واپس گئی، تو اس نے علی کو پانی میں بے ہوش پایا۔ فوری طور پر علی کو نکال کر CPR دی گئی اور چند منٹ میں لائف گارڈ بھی پہنچ گیا۔

حادثے کی جگہ وہی تھی جہاں علی کی بہن نے اسے چھوڑا تھا اور پانی اس کی چھاتی تک آ رہا تھا۔ تبسم کا کہنا ہے کہ "ہمیں بالکل اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔ نہ کوئی آواز سنی، نہ کوئی چیخ۔”

علی کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچ دن تک وہ وینٹی لیٹر پر رہا۔ بعد ازاں وہ خود سے سانس لینے کے قابل ہو گیا، لیکن MRI رپورٹ نے دماغی نقصان (Hypoxia) ظاہر کیا۔ وہ اب نہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے، نہ ہی کھا یا پی سکتا ہے، اور مکمل نگہداشت کا محتاج ہے۔

علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے خاندان مزید اسپتال میں قیام کا متحمل نہیں ہو سکا اور علی کو گھر منتقل کرنا پڑا۔ تبسم کا کہنا ہے کہ "ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب ہمارے لیے یہ سب سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”

اس وقت خاندان پر ایک لاکھ درہم سے زائد کے بقایا جات ہیں اور وہ خیراتی اداروں سے مدد کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ تبسم کا کہنا ہے کہ "ہم صرف بہتر تعلیم اور زندگی کا خواب لے کر دبئی آئے تھے، لیکن اب ہم واپس بھارت جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہم قرضوں میں ڈوب چکے ہیں، مگر اب بھی معجزے کی امید ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button