Uncategorized

افغان گاؤں میں زلزلے نے کوئی گھر خالی نہ چھوڑا

خلیج اردو
کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے گاؤں وادیر میں آنے والے خوفناک زلزلے نے تباہی مچا دی، کوئی بھی گھر موت یا زخمیوں سے خالی نہ رہا۔ 6 شدت کے اس زلزلے نے کچے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جبکہ آفٹر شاکس مسلسل علاقے کو ہلا رہے ہیں۔

55 سالہ رہائشی گل محمد رسولی، جو خود بھی زخمی ہیں، نے بتایا: "ہر گھر میں کم از کم ایک شخص ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔” گاؤں کی گلیوں میں عورتوں کے رونے کی آوازیں اور ملبہ ہٹانے کی کھدائی مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔

طالبان کی سکیورٹی فورسز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زخمیوں کو قریبی شہر جلال آباد کے اسپتال منتقل کر رہی ہیں، جہاں پہلے ہی ہزاروں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ کنڑ کے پہاڑی راستے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ناقابلِ استعمال ہو گئے ہیں جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ گاؤں وادیر میں تقریباً ایک ہزار گھر ہیں، جن میں سے نصف ان افغان خاندانوں کے ہیں جو حال ہی میں پاکستان سے بے دخل ہو کر یہاں آباد ہوئے تھے۔

مقامی ڈاکٹر فضل ربیع نے بتایا: "یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دس میں سے نو لوگ یا تو ہلاک ہیں یا زخمی۔”

20 سالہ رہائشی محمد جواد نے کہا: "جب زلزلہ آیا تو میں گھر سے بھاگا اور وہ فوراً پیچھے سے گر گیا۔ میرے خاندان کے دس افراد میں سے ایک ہلاک ہو گیا اور باقی سب زخمی ہیں۔”

بارش کے بادل علاقے پر چھا رہے ہیں اور گاؤں کے مولوی عرفان الحق کے مطابق کھلے آسمان تلے متاثرہ افراد کے پاس کوئی پناہ گاہ موجود نہیں۔ "اگر کوئی ملبے تلے زندہ بھی ہے تو شاید زندہ نہ بچ سکے۔”

یہ وہی علاقہ ہے جہاں تاریخ میں بار بار طاقتور زلزلے آتے رہے ہیں اور اب ایک بار پھر بڑی تباہی نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button