Uncategorized

متحدہ عرب امارات کی قدیم مسجد سے متاثر مسدر سٹی میں جدید ماحول دوست نیٹ زیرو انرجی مسجد رمضان میں نمازیوں کیلئے کھول دی گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے شہر Masdar City میں قائم نئی مسجد رمضان المبارک کے دوران قریبی علاقوں میں مقیم 1300 نمازیوں کو عبادات کی سہولت فراہم کرے گی جبکہ اس کا نیٹ زیرو انرجی ڈیزائن ماحول دوست تعمیرات کی بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ مسجد مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلتی ہے اور سالانہ بنیاد پر جتنی بجلی استعمال کرتی ہے اتنی ہی خود پیدا بھی کرتی ہے جو کہ پائیدار ترقی اور کم کاربن طرزِ زندگی کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔

مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ یہ نہ صرف عبادت گاہ بلکہ کمیونٹی کے اجتماعی میل جول کا مرکز بھی بن سکے۔ حکام کے مطابق "پائیدار ترقی اسلامی تعلیمات میں توازن اور ذمہ داری کے اصولوں سے جڑی ہوئی ہے اور عبادت گاہیں بھی ماحولیاتی ذمہ داری میں مثال بن سکتی ہیں”۔

مسجد کا طرزِ تعمیر متحدہ عرب امارات کی قدیم ترین مساجد میں شامل Al Bidyah Mosque سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے جس میں روایتی فنِ تعمیر کو جدید انجینئرنگ کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

42 میٹر چوڑا بغیر ستونوں والا ہال عبادت کے لیے کشادہ جگہ فراہم کرتا ہے جبکہ 20 اعشاریہ 2 میٹر بلند مینار شہر کی نمایاں شناخت بن گیا ہے۔ وضو کے پانی کو ری سائیکل کر کے باغبانی میں استعمال کرنے کا جدید نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔

مسجد کی چھت اور پارکنگ ایریا میں نصب شمسی پینلز سالانہ توانائی کی 100 فیصد ضروریات پوری کرتے ہیں جبکہ قدرتی وینٹی لیشن، ایل ای ڈی لائٹنگ اور دیگر جدید سہولیات توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لاتی ہیں۔

یہ مسجد رمضان سمیت سال بھر مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کی جا سکے گی جو اسے عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کا مرکز بھی بناتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button