خلیج اردو
جنوب مشرقی ایشیا سمیت دنیا کے کئی حصوں میں کووِڈ-19 کا ایک نیا ویرینٹ جی این ون تیزی سے پھیل رہا ہے، جس نے ماہرین صحت کو ایک بار پھر متحرک کر دیا ہے۔
ہانگ کانگ کے سینٹر فار ہیلتھ پروٹیکشن کے مطابق، مارچ کے وسط میں متاثرہ افراد کی شرح 1.7 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 11.4 فیصد ہو گئی ہے۔ سنگاپور میں بھی 27 اپریل سے 3 مئی کے دوران کیسز کی تعداد 28 فیصد اضافے کے ساتھ 14,200 ہو گئی، جو کہ پچھلے ہفتے 11,100 تھی۔
ایشیا اور بھارت کے مختلف علاقوں میں بڑھتے کیسز کے باعث عوام دوبارہ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔
جے این ون ویرینٹ کیا ہے؟
جے این ون، Omicron ویرینٹ (جسے Pirola بھی کہا جاتا ہے) کی ایک شاخ ہے، جو 2023 کے آخر میں منظرعام پر آئی۔ اس ویرینٹ نے سپائیک پروٹین میں 30 سے زائد تبدیلیوں (mutations) کے باعث توجہ حاصل کی۔
کیا یہ زیادہ پھیلنے والا ویرینٹ ہے؟
جی ہاں۔ جے این ون اپنی ساخت میں موجود زائد تبدیلیوں کی وجہ سے دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، خاص طور پر اس کی spike پروٹین میں ہونے والی 30 سے زائد mutations اسے مزید متعدی بناتی ہیں۔
البتہ، اب تک کے شواہد کے مطابق، اس ویرینٹ سے متاثر ہونے کے اثرات Omicron جتنے ہی ہیں اور زیادہ شدید نہیں۔
علامات کیا ہیں؟
جے این ون کی علامات Omicron ویرینٹ سے ملتی جلتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
نزلہ یا بہتی ناک
گلے کی سوجن یا خراش
کھانسی
تھکن یا کمزوری
سر درد
بخار
معدے سے متعلق علامات، جیسے متلی یا اسہال
کیا ویکسین اب بھی مؤثر ہے؟
جی ہاں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ ویکسینز جے این ون کے خلاف شدید علامات اور اسپتال داخلے سے بچاؤ میں مؤثر ہیں۔ اگرچہ یہ ویرینٹ زیادہ پھیلنے والا ہے، لیکن ویکسین شدہ افراد کو شدید بیماری کے خطرے سے کافی حد تک تحفظ حاصل رہتا ہے۔





