عالمی خبریں

امریکہ سنہرے دور میں داخل ہوچکا، معیشت مستحکم ہے جبکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکیں گے،ٹرمپ

خلیج اردو
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ "ہماری قوم بہترین انداز میں ترقی کے راستے پر واپس آچکی ہے، یہ امریکہ کا سنہرا دور ہے، ہم نے ایک سال میں ملک کے حالات بدترین سے بہترین کردیے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ آج پہلے سے زیادہ امیر اور بہتر ہے، امریکی معیشت مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے گئے”۔

انہوں نے کہا کہ "افراطِ زر میں غیر معمولی کمی لائی گئی، بائیڈن دور میں بدترین مہنگائی تھی، پہلے ہم مردہ ملک تھے اور اب سب سے زیادہ پسندیدہ ملک ہیں”۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "گزشتہ 9 ماہ میں ایک بھی شخص غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل نہیں ہوا، ہم صرف قانونی طریقے سے لوگوں کو امریکہ آنے کی اجازت دیں گے”۔

خطاب میں انہوں نے کہا کہ "میں نے تیل کی تلاش کرو اور اسے نکالو کا وعدہ پورا کردیا، اب وینزویلا ہمارا نیا دوست اور پارٹنر ہے، وینزویلا کی نئی صدر کے ساتھ مل کر بہترین کام کر رہے ہیں، وینزویلا سے 80 ملین بیرل تیل امریکہ لائے اور اب اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ہر محاذ پر جیت رہے ہیں، آج ہمارے دشمن ہم سے خوفزدہ ہیں، ہم ڈرگ کارٹلز کے خلاف کام کر رہے ہیں، جیسا کہ کل آپ نے دیکھا، نکولس مادورو کو بھی انصاف کے لیے امریکہ لائے”۔

ٹرمپ نے کہا کہ "ہم ایران کو کبھی جوہری طاقت نہیں بننے دے سکتے، ایران کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہوں”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "میں نے دنیا میں امن قائم کیا، ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کیا، پہلی مدتِ صدارت میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا”۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں نے اسرائیل اور ایران کی جنگ رکوائی، کانگو اور روانڈا کی جنگ رکوائی، غزہ کی جنگ رکوائی، ہماری پالیسی واضح ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے کئی جنگیں ٹیرف کی مدد سے ختم کیں، دنیا میں آٹھ جنگیں رکوائیں جن میں پاک بھارت اور غزہ جنگ بھی شامل ہے”۔ ٹرمپ کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ "میں نے جنگ رکوا کر کروڑوں لوگوں کی جانیں بچائیں”۔ انہوں نے کہا کہ "جو ممالک ہمیں لوٹ رہے تھے وہ اب ادائیگیاں کر رہے ہیں، بدقسمتی سے امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا، تاہم عدالتی فیصلے کے باوجود ممالک ٹیرف دینے پر رضامند ہیں”۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button