عالمی خبریں

کینیڈا نے 75 فیصد بھارتی طلبہ کی ویزا درخواستیں مسترد کر دیں، جعلی دستاویزات پر کڑی کارروائی

 

خلیج اردو

دبئی: کینیڈا نے بھارتی طلبہ کی اسٹڈی ویزا درخواستوں کی منظوری میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کی حکومت نے بھارتی طالب علموں کی 75 فیصد سے زائد درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔

کینیڈین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اگست 2023 میں بھارت سے 20,900 طلبہ نے اسٹڈی پرمٹ کے لیے درخواست دی تھی، جبکہ اگست 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 4,515 رہ گئی — یعنی تقریباً 80 فیصد کمی۔ بھارت گزشتہ ایک دہائی سے کینیڈا کے لیے بین الاقوامی طلبہ کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، مگر اب وہ 1,000 سے زیادہ منظور شدہ درخواستوں والے ممالک میں سب سے زیادہ ریجیکشن ریٹ کا سامنا کر رہا ہے۔

جعلی درخواستوں پر کارروائی
کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ سخت پالیسی کی بنیادی وجہ جعلی درخواستوں میں اضافہ ہے، جن میں زیادہ تر بھارت سے منسلک ہیں۔ 2023 میں 1,550 جعلی اسٹڈی ویزا کیسز سامنے آئے جن میں فرضی داخلہ خطوط استعمال کیے گئے۔ اگلے سال، ایک نئے تصدیقی نظام کے تحت 14,000 سے زائد جعلی خطوط کا عالمی سطح پر انکشاف ہوا۔

امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ اب درخواست دہندگان کو بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ مالی وسائل کے ذرائع کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی نظام کی شفافیت اور ساکھ برقرار رکھنا ہے۔

کشیدہ سفارتی پس منظر
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے 2023 میں بھارتی مداخلت کے الزام کے بعد کشیدہ ہوئے۔ نئی دہلی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

یونیورسٹیاں متاثر
کینیڈا کی بڑی یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کے مطابق پچھلے چار سالوں میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں دو تہائی کمی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی آف ریجائنا اور سسکیچیوان یونیورسٹی نے بھی اسی نوعیت کی کمی کی تصدیق کی ہے۔

یونیورسٹی آف واٹرلو کے عہدیدار ایان وینڈر برگھ نے کہا کہ “یہ کمی ہماری عالمی شناخت پر اثر ڈال رہی ہے، کیونکہ بھارتی طلبہ ہمیشہ ہمارے تعلیمی ماحول کا اہم حصہ رہے ہیں۔”

بھارتی ہائی کمیشن نے کہا کہ “دنیا کے بہترین طلبہ بھارت سے آتے ہیں، اور کینیڈا کی جامعات نے ان کی علمی صلاحیتوں سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے۔”

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے وضاحت کی کہ سخت جانچ پڑتال کا مقصد طلبہ کو روکنا نہیں بلکہ امیگریشن نظام کی شفافیت برقرار رکھنا ہے۔ “ہم بھارتی طلبہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر دیانتداری ہمارے نظام کی بنیاد ہے۔”

تبدل پذیر رویے
بعض بھارتی طلبہ جنہیں ویزا سے انکار کیا گیا، مایوس نہیں ہیں۔ کئی طلبہ نے کہا کہ ملازمتوں اور مستقل رہائش کے مواقع کم ہونے کے باعث وہ "خوش ہیں کہ نہیں گئے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button