عالمی خبریں

ٹرمپ کا دعویٰ: “میں نے آٹھ جنگیں روکی ہیں” اور نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ درخواست

خلیج اردو

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر نوبل امن انعام حاصل کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مداخلت سے آٹھ جنگیں روکی ہیں اور کروڑوں افراد کی جانیں بچائیں۔ تیل اور گیس کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ چاہے لوگ انہیں پسند کریں یا نہ کریں، انہوں نے “آٹھ بڑی جنگیں ختم کرائیں”۔

ٹرمپ نے خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان 2025 میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ملک جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے اور کئی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے، تاہم ان کی مداخلت سے معاملہ جلد قابو میں آ گیا اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر جنگ ٹل گئی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ تنازعات دہائیوں سے جاری تھے جبکہ کچھ ابھی شروع ہی ہونے والے تھے، لیکن سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ کا راستہ روک دیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی کوششوں سے اسرائیل اور ایران، اسرائیل اور حماس، بھارت اور پاکستان، روانڈا اور کانگو، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا، آرمینیا اور آذربائیجان، مصر اور ایتھوپیا، اور سربیا اور کوسوو کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ “نظریاتی طور پر ہر وہ شخص جو جنگ روکے اسے نوبل انعام ملنا چاہیے، مگر مجھے لوگوں کی جانیں بچانے کی فکر ہے، میں نے کروڑوں زندگیاں بچائیں۔”

سابق صدر باراک اوباما کو ملنے والے نوبل امن انعام پر بھی ٹرمپ نے تنقید کی اور کہا کہ اوباما کو انعام ملنے کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی۔ ان کے بقول روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں بتایا تھا کہ وہ کچھ تنازعات ختم نہ کرا سکے تھے جو ٹرمپ نے حل کروائے۔

ٹرمپ نے یہ دعوے فلوریڈا کے مار اے لاگو میں ایک تقریب کے دوران بھی دہرائے اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان تنازع میں لاکھوں جانیں جا سکتی تھیں۔

اسی دوران وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا ماشادو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ نوبل امن انعام ٹرمپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں، جس پر ٹرمپ نے اسے اپنے لیے “بڑا اعزاز” قرار دیا۔ تاہم نوبل کمیٹی نے وضاحت کی کہ ایک مرتبہ دیا گیا انعام نہ تو منتقل ہو سکتا ہے اور نہ ہی شیئر کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے وینیزویلا کی سیاست پر بھی بات کرتے ہوئے ماشادو کی قیادت کو ناکافی قرار دیا، جبکہ امریکہ اس وقت ڈیلسی رودریگیز کو قائم مقام صدر تسلیم کرتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نوبل کمیٹی کا طرزِ عمل “شرمناک” ہے اور انہیں انعام نہ دینا ناانصافی ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف امن اور انسانی جانوں کے تحفظ کی پرواہ کرتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button