
کیرالا کے رکن اسمبلی راہول ممکوٹتھیل کو اتوار کی علی الصبح اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب ان کے خلاف تیسرے ریپ کیس کی شکایت درج کرائی گئی۔ یہ پیش رفت ان کے جاری قانونی مسائل میں نمایاں اضافہ تصور کی جا رہی ہے۔ ممکوٹتھیل، جو یوتھ کانگریس کے سابق اسٹیٹ صدر رہ چکے ہیں، پہلی ریپ شکایت سامنے آنے کے بعد پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں۔
ریاستی کرائم برانچ نے تقریباً 12:30 بجے رات پالکّڈ میں گرفتاری عمل میں لائی۔ نئی شکایت ای میل کے ذریعے موصول ہوئی تھی، جسے میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کے دفتر سے کرائم برانچ کو فارورڈ کیا گیا۔ شکایت کے مندرجات دیکھنے کے بعد تفتیش کاروں نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔
الزامات کی تفصیل
شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ راہول ممکوٹتھیل نے تیرُوالا میں اسے ریپ اور شدید نوعیت کے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے اسے شدید جسمانی اور ذہنی صدمہ پہنچا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایم ایل اے نے اسے اس کی مرضی کے خلاف اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔
جنسی جرائم کے علاوہ شکایت میں مالی استحصال کے الزامات بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ممکوٹتھیل نے اسے پالکّڈ میں ایک فلیٹ خریدنے کے انتظامات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور اسے بار بار معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات کیس کے ایک نئے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔
قانونی صورتحال
اس تیسرے کیس کے اندراج کے بعد ممکوٹتھیل اب تین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پہلے کیس میں کیرالا ہائی کورٹ نے انہیں گرفتاری سے تحفظ دیا تھا، جبکہ دوسرے کیس میں ٹرائل کورٹ نے انہیں 21 جنوری تک عبوری ضمانت دی تھی۔ تاہم تیسرے مقدمے کے بعد صورتحال بدل گئی اور کرائم برانچ نے انہیں گرفتار کر لیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ اے آر کیمپ پتانم تھٹٹا میں کی گئی، جس کے بعد توقع ہے کہ انہیں اتوار ہی کو تیرُوالا کی مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ کرائم برانچ کے مطابق مزید ریمانڈ کی استدعا بھی کی جا سکتی ہے تاکہ الیکٹرانک شواہد، مالی ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معاملات کی جانچ کی جا سکے۔
یہ کیس کیرالا بھر میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش قانون کے مطابق شفاف طریقے سے کی جائے گی اور تمام الزامات شواہد کی بنیاد پر جانچے جائیں گے۔







