
خلیج اردو
ایتھوپیا کے ہائیلی گوبی آتش فشاں سے اٹھنے والا راکھ کا بادل گزشتہ شب ہوا کے رخ کے باعث بھارت کے شمال مغربی حصوں تک پہنچ گیا، جس سے راجستھان، گجرات، مہاراشٹرا، دہلی این سی آر اور پنجاب میں حدِ نگاہ کم ہونے اور فضائی آپریشن متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ممبئی کے چھترپتی شواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اس صورتحال کے پیش نظر مسافروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایئرپورٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ راکھ کا بادل بین الاقوامی فضائی راستوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے باعث پروازوں میں تاخیر، منسوخی یا ڈائیورژن کا امکان موجود ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں سے متعلق تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں اور ایئرپورٹ روانگی کے لیے اضافی وقت رکھیں۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق وہ ایئر لائنز اور سول ایوی ایشن ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے بھی تمام ایئرپورٹرز اور ایئر لائنز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں راکھ کے باعث پیدا ہونے والے آپریشنل چیلنجز سے خبردار کیا گیا ہے۔ آپریٹرز کو کہا گیا ہے کہ وہ رئیل ٹائم اپ ڈیٹس کی نگرانی کریں اور ضرورت کے مطابق حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
راکھ کے بادل کے باعث کئی پروازیں منسوخ یا دوسری منزلوں کی طرف منتقل کی گئی ہیں۔ اکاسا ایئر، انڈیگو اور کے ایل ایم سمیت مختلف ایئرلائنز نے فلائٹس ڈائیورٹ کیں۔ انڈیگو کی کنور سے ابوظبی جانے والی پرواز احمد آباد کی طرف موڑ دی گئی جبکہ ایک اور بھارتی ایئرلائن نے ابوظبی جانے والی پرواز کے انجن کا تفصیلی معائنہ کیا۔
DGCA کی ہدایت پر ایئر لائنز کو متاثرہ فضائی بلندیوں اور علاقوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ایئرپورٹس کو رن وے پر راکھ کی ممکنہ تہہ کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر آپریشن معطل کرنے کا کہا گیا ہے۔
ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ راکھ کے بادل کچھ خطوں پر دیکھے گئے ہیں اور ادارہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے کیونکہ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ انڈیگو اور اکاسا ایئر نے بھی اپنے بیانات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آتش فشانی سرگرمی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر آتش فشانی راکھ کا بادل عمان اور یمن سے آگے بڑھتا رہا۔ اگرچہ اس کی شدت بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، لیکن دہلی اور جے پور کا فضائی علاقہ اب بھی قریبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔







