عالمی خبریں

امریکا اور چین میں تجارتی پیش رفت سے توانائی کی طلب کے امکانات میں بہتری، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

 

خلیج اردو
تیل کی عالمی منڈی میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی جب امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدے پر پیش رفت سے توانائی کی طلب میں اضافے کی توقعات بڑھ گئیں۔ برینٹ آئل کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا پہنچی، جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 62 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کاروں نے متعدد نکات پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ گیا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ چین سے درآمدات پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی "اب مؤثر طور پر ختم ہو گئی ہے”۔ امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان تناؤ میں کمی سے عالمی معیشت کو سہارا ملنے کی امید ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی پابندیوں کے باعث روس کے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے اداروں روسنیفٹ اور لوک آئل کی برآمدات متاثر ہوئیں، جس سے قیمتوں میں کمی کا رجحان تھم گیا۔ بھارت اور چین کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں کمی سے متبادل خام تیل کی طلب بڑھنے کی توقع ہے۔

سنگاپور کی مارکیٹ تجزیہ کار کمپنی وینڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری نے کہا کہ "امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے کی امید نے اقتصادی اور تیل کی طلب کے جذبات کو مضبوط کیا ہے، تاہم زائد سپلائی کی موجودگی قیمتوں میں بڑے اضافے کو محدود رکھے گی۔ برینٹ تیل دوبارہ 60 ڈالر کے بالائی حصے میں مستحکم ہو سکتا ہے۔”

امریکی انتظامیہ کے مطابق روس پر عائد حالیہ پابندیوں کا مقصد اس کی تیل کی تجارت کو مشکل، مہنگا اور خطرناک بنانا ہے، لیکن ایسا نہیں کہ عالمی منڈی میں سپلائی کے اچانک جھٹکے سے قیمتیں آسمان کو چھو جائیں۔

دریں اثنا، بھارت کے ریفائنرز نے کہا ہے کہ روسی تیل کی درآمدات جلد تقریباً صفر تک گر جائیں گی، جبکہ چین نے بھی کچھ خریداری عارضی طور پر روک دی ہے۔

برینٹ مارکیٹ میں حالیہ دنوں مثبت رجحان اس وقت ظاہر ہوا جب اس کی قریبی دو کنٹریکٹس کے درمیان فرق 79 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گیا، جو ایک ہفتہ قبل صرف 13 سینٹ تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button