
خلیج اردو
سرینگر: جموں و کشمیر کے شہر سرینگر میں نوگام پولیس اسٹیشن میں جمعے کی رات ضبط شدہ دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک شدگان میں زیادہ تر پولیس اہلکار اور فرانزک ماہرین شامل ہیں جو موقع پر موجود مواد کا معائنہ کر رہے تھے۔ سرینگر انتظامیہ کے دو افسر، جن میں ایک نائب تحصیلدار بھی شامل ہیں، دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کی ویڈیوز میں عمارت کو آگ اور دھوئیں میں لپٹا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے دو پہلو
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ماہرین ایک بڑے ذخیرے سے نمونے اکٹھے کر رہے تھے۔ حکام دو ممکنہ پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں—پہلا یہ کہ امونیم نائٹریٹ پر مشتمل مواد کی سیلنگ کے دوران کسی غلطی کے باعث آگ بھڑکی ہو، دوسرا امکان دہشت گردی کی کارروائی کا ہے۔
پولیس کے مطابق تقریباً 350 کلوگرام برآمد شدہ دھماکا خیز مواد پولیس اسٹیشن میں موجود تھا، جو حالیہ بے نقاب ہونے والے ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد گروہ سے منسلک کیس کا مرکزی ثبوت تھا۔ کچھ کیمیکلز فرانزک لیب بھیجے گئے تھے لیکن بڑی مقدار ابھی بھی عمارت کے اندر موجود تھی۔ ہلاک شدگان کی لاشوں کو سرینگر پولیس کنٹرول روم منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ امکان بھی زیرِ تفتیش ہے کہ کمپاؤنڈ میں کھڑی ایک ضبط شدہ گاڑی میں کوئی آئی ای ڈی نصب تھا یا نہیں۔
علاقہ سیل، سیکیورٹی ہائی الرٹ
زخمیوں کو آرمی کے 92 بیس اسپتال اور ایس کے آئی ایم ایس منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے کتوں کی مدد سے پورے کمپاؤنڈ کی تلاشی لی۔
350 کلوگرام دھماکا خیز مواد فرید آباد میں ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی کی کرائے کی رہائش گاہ سے برآمد کیا گیا تھا، جو اب تک گرفتار ہونے والے آٹھ ملزمان میں شامل ہے۔
واقعہ دہلی میں چار روز قبل ہونے والے کار دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں ریاست بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نالِن پربھات نے ریڈ فورٹ کار دھماکے کے بعد ایک اہم سیکیورٹی جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا تھا، اور اب دونوں دھماکوں کے درمیان ممکنہ لنک کی تحقیقات جاری ہیں۔







