
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے معاہدے کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن امریکا نے واضح کردیا کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس لڑائی میں ایران سے زیادہ سنجیدہ ہے اور سب سے پہلے ایران کی عسکری طاقت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا کے پاس ایران پر حملے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور کارروائی کے دوران ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے جبکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گھنٹے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کم کی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب نہ مؤثر فضائیہ باقی رہی ہے اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام جبکہ ایرانی طیارے بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آئندہ جو بھی ایران کی قیادت سنبھالے وہ امریکا اور اسرائیل کو دھمکی نہ دے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاسداران انقلاب کے کمانڈرز اپنے عہدے چھوڑ دیں تو انہیں مکمل استثنیٰ دیا جا سکتا ہے بصورت دیگر انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں تاہم وہ اسے قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب میں ان کا کردار ہو، جیسے وہ ماضی میں وینیزویلا کی قیادت کے معاملے میں مداخلت کر چکے ہیں، جسے مبصرین خطے کی سیاست میں نئی کشیدگی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔







