
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے 27ویں دن میں داخل ہو گئے ہیں، جب کہ سفارتی اشارے مخلوط رہیں۔ ایرانی حکام مسلسل مذاکرات سے انکار کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ بیک چینل رابطے پیش رفت کر رہے ہیں۔
ابوظبی میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری ہلاک، متعدد زخمی ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاعی نظام نے 15 بیلسٹک میزائل اور 11 ڈرونز کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو 10 دن کے لیے معطل کیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی فوج نے ایران کے بحریہ کمانڈر علیرضا تنگسیری کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ایران نے تنگسیری کی ہلاکت پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارتی کردار ادا کیا، جبکہ مصر اور ترکی بھی اس عمل میں تعاون کر رہے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,116 افراد ہلاک اور 3,229 زخمی ہو چکے ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ عالمی خوراک کی فراہمی اور توانائی کی سیکورٹی پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔ یو این فوڈ اینڈ ایگری کلچر کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو عالمی سطح پر نتائج مہلک ہوں گے۔
خلیج ممالک نے ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی اور خطے میں سلامتی کی صورتحال کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔







