عالمی خبریں

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے انتخاب کا نیا طریقہ کار،آزادیٔ صحافت پر سوالات اٹھ گئے

واشنگٹن: امریکہ میں پہلی بار، وائٹ ہاؤس میں اجازت یافتہ صحافیوں کا انتخاب پریس ٹیم خود کرے گی، جس کا اعلان پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کیا۔

یہ فیصلہ ایک صدی پرانی روایت میں بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ 1914 میں قائم ہونے والی وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن  اب تک یہ انتخاب کرتی رہی ہے۔

کیرولین لیوٹ کے مطابق، نئے نظام کے تحت پرانے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو بھی نمائندگی دی جائے گی، جنہیں پہلے اس میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا۔

تاہم یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایسوسی ایٹڈ پریس  نے لیوٹ اور دیگر سینئر حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے اے پی پر پابندی عائد کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس تبدیلی کو امریکہ میں آزادیٔ صحافت پر شدید ضرب قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اب صرف ان صحافیوں کا انتخاب کرے گی، جو صدر کی مرضی کے مطابق خبریں نشر کریں گے، جو کہ میڈیا کی غیرجانبداری اور شفافیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ نیا اقدام آزادیٔ صحافت کے حوالے سے مزید تنازعات کو جنم دے سکتا ہے، جبکہ ناقدین اسے صحافیوں پر حکومتی کنٹرول کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button