
خلیج اردو
تحریر: حبیب عزیز
آٹھویں جماعت میں ایک بار ابا نے مجھے کراچی سے 200 روپئے کا جیب خرچ بھیجا۔اس زمانے میں روپئے میں بہت طاقت ہوتی تھی۔100 روپیہ تو بہت بڑی چیز تھی۔ہمیں روزانہ ایک روپیہ جیب خرچ ملا کرتا تھا۔
تحریر: حبیب عزیز
آٹھویں جماعت میں ایک بار ابا نے مجھے کراچی سے 200 روپئے کا جیب خرچ بھیجا۔اس زمانے میں روپئے میں بہت طاقت ہوتی تھی۔100 روپیہ تو بہت بڑی چیز تھی۔ہمیں روزانہ ایک روپیہ جیب خرچ ملا کرتا تھا۔
ایک ساتھ 200 روپئے ملنے سے مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اتنی بڑی رقم کا میں کیا کروں گا۔اور اگر خرچ کردئیے تو اماں کو کیسے جواب دوں گا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ کی۔۔
سب سے پہلے میں نے سو روپئے اماں کو دئیے کہ یہ آپ رکھ لیں۔میں اتنے پیسوں کا کیا کروں گا۔اماں بہت خوش ہوئیں اور اسی وقت ہمارے قریب واقع ایک ویلڈنگ کی دکان میں لوہے کی چار کرسیوں اور ایک ٹیبل بنوانے کا ایڈوانس دے دیا۔یہ سیٹ چھ سو روپئے کا بنا تھا۔یہ کرسیاں ٹیبل آج بھی گرمی سردی برف بارش میں ہمارے صحن میں پڑی رہتی ہیں اور اتنی مضبوط ہیں کہ رنگ کرنے کے بعد نئی لگتی ہیں۔
ہمارے پاس فلپس کا ٹیپ ریکارڈر ہوتا تھا جو کئی سال پہلے کراچی میں خریدا گیا تھا۔اس کی آڈیو کیسٹ 20 روپئے کی ملا کرتی تھی۔وہ ٹیپ ریکارڈر میرا ہوا کرتا تھا۔میرے پاس چند کیسٹس تھیں۔اب پیسے آئے تو سوچا کیوں نہ مری شہر سے ایک نئی کیسٹ خرید لاوں۔۔نومبر کے دن تھے۔ایک دن سکول سے واپس آنے کے بعد اماں سے کرکٹ کھیلنے کا بہانہ کرکے میں مری کی طرف عازم سفر ہوا۔۔
اس زمانے میں آٹھویں جماعت کے ایک لڑکے کے لئیے اکیلے مری جانا بھی آسان کام نہیں تھا۔ 20 کلومیٹر دور مری شہر ہم صرف بڑوں کے ساتھ جاسکتے تھے۔۔
دیول سے چلنے والی فورڈ ویگن نے تین روپئے کرایہ لیا اور مری ایجنسی بس سٹینڈ میں اتارا۔اس سے پہلے آخری بار میں ابا کے ساتھ پچھلے سال مری گیا تھا جب ابا نے مشہور سٹار بیکری سے کیک بن اور رس خریدے تھے اور مال روڈ کی ایک دکان سے ٹی وی ٹھیک کروایا تھا۔
انہی پرانی یاد داشتوں کے سہارے میں جی پی او چوک تک پہنچا اور وہاں سے نشیب میں موچی منڈی کی طرف جانے والی سڑک کی ایک دکان سے لتا کے گانوں کی آڈیو کیسٹ خریدی۔سیروز گلی گھر والوں کے لئیے سموسے پکوڑے لئیے ۔واپس مرحبا چوک پہنچا تو شام ہوچکی تھی ۔سٹار بیکری قریب تھی وہاں سے ڈبل روٹی اور کوکونٹ بسکٹ خریدے۔وہاں کچھ کھانا پینا کرکے بس سٹینڈ پر پہنچا تو دیول کی کوئی گاڑی نہیں تھی۔موسم بھی شام کے اندھیروں کے ساتھ خراب ہونا شروع ہوچکا تھا۔۔
اڈے میں ایک بزرگ نے ہدائیت کی کہ پتر معلوم نہیں اب دیول کی گاڑی آئے نہ آئے ۔تم ایسا کرو جی پی او چوک واپس جاو اور وہاں سے کسی اوپل کار میں بیٹھ کر جھیکا گلی جاو۔۔سنی بینک مت جانا کیونکہ پنڈی سے دیول جانے والی اکثر گاڑیوں کی سواریاں جھیکا گلی اترتی ہیں اور وہاں سے تم کو ویگن میں جگہ مل جائے گی۔۔
مغرب کی نماز میں تھوڑا وقت رہ گیا تھا جب میں جی پی او چوک پہنچا۔موسم بہت سرد ہوچکا تھا۔لگتا تھا کسی وقت بھی بارش شروع ہوجائے گی۔میں نے صرف ہلکی سی سوئیٹر پہنی ہوئی تھی۔وہاں کوئی اوپل کار یا دوسری گاڑی نہیں تھی۔۔
اچانک تیز بارش کے ساتھ اولے پڑنا شروع ہوگئے۔بارش سے پچنے کے لئیے بد حواسی میں میں نے بجائے جی پی او یا سامنے کسی جگہ پناء لینے کے اوپر کشمیر پوائنٹ جانے والی سڑک پر بھاگنا شروع کردیا۔مجھے اس وقت یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ سڑک کہاں جارہی ہے۔۔
اس زمانے میں مری میں صرف گرمائی سیزن ہوا کرتا تھا۔اگست ستمبر کے بعد بہت کم لوگ آتے تھے۔ایسے میں مری کے اکثر کیبن دکانیں یا تو چند ماہ کے لئیے بند ہوجایا کرتے تھے یا پھر دن میں چند گھنٹوں کے لیئےکھلا کرتے تھے۔مری کی اپنی آبادی بہت کم تھی۔زیادہ آبادی لوہر بازار اور موچی منڈی کی طرف تھی۔اس کے علاوہ مری میں ہر طرف ہو کا عالم ہوتا تھا۔۔میں جس سڑک پر بارش سے بچنے کے لئیے بھاگا وہاں اس زمانے میں زیادہ تر خالی پہاڑی ڈھلوانیں تھیں اور قدیم وقتوں کی بنی ہوئی انگریزوں کی عمارات تھیں جو اکثر خالی تھیں۔
انگریز جب مری سے گئے تو انکے ویران بنگلے ہندو سکھوں کی چھوڑی ہوئی تجارتی عمارتیں بہت عرصے تک خالی رہیں۔1947 میں بہت ساری عمارتوں کو لوٹ مار کر آگ لگادی گئی تھی۔کچھ عمارتیں تو مقامی اور غیر مقامی لوگوں نے قبضہ کرلیں اور کچھ عمارتوں کےکلیم اور کیس عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔اس لئیے مری میں بہت ساری پرانی عمارتیں ابھی تک ویران اور خالی تھیں۔
بارش اور اولوں کی شدت زیادہ ہوگئی تھی۔مری میں نومبر ویسے بھی بہت سرد ہوتا ہے۔
کافی آگے جاکر مجھے ایک پرانی عمارت نظر آئی جس کا پھاٹک کھلا تھا اور عمارت کے مرکزی دروازے کے آگے ایک پورچ بنا ہوا تھا۔میں نے فورا بھاگ کر اس پورچ میں پناء لی۔عمارت اندھیرے میں ڈوبی ہوئی خالی محسوس ہورہی تھی۔دومنزلہ عمارت کے سامنے رخ پر ویران لان تھا اور پھاٹک کا ایک دروازہ غائب تھا۔۔تیز ہوا کے ساتھ بارش کی بوچھاڑ پورچ کے اندر تک آرہی تھی۔ہمت کرکے میں نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔مجھے شدید سردی کے ساتھ اب خوف بھی محسوس ہورہا تھا مگر میں کہیں اور جا بھی نہیں سکتا تھا۔گھر والوں کی پریشانی کا سوچ کر خوف اور زیادہ ہورہا تھا۔۔
رات پوری طرح پھیل چکی تھی۔سامنے کشمیر پوائینٹ والی سڑک پر نہ آدم تھا نہ آدم زاد۔حتکہ کوئی آوارہ جانور تک نہیں تھا۔ ٹھنڈ میں بھوک بھی بہت جلدی لگتی ہے۔۔
مجھے وہاں کھڑے کھڑے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا۔اس دوران صرف ایک جیپ تیزی سے گزری تھی۔میری ٹانگیں سردی سے سن ہوچکی تھیں۔اتنے میں تیز ہوا سے پورچ کے پاس والے کمرے کی کھڑکی کھلی اور زور سے بند ہوگئی۔۔میں نے بغیر کچھ سوچے بھاگ کر کھڑکی کھولی اور کمرے میں کود گیا۔
یہ پرانے وقتوں کا بہت بڑا کمرہ تھا جس میں دو دروازے اور بڑی بڑی فرنچ ونڈوز لگی ہوئی تھیں۔پرانا فرنیچر اب بھی موجود تھا۔سب سے حیرت کی بات یہ تھی کہ کمرہ بہت گرم تھا۔لگتا تھا ساتھ کسی کمرے میں انگیٹھی جل رہی ہے۔کمرے میں دیواروں پر انگریز فوجیوں اور میموں کے پورٹریٹ لگے ہوئے تھے۔صوفہ بہت اچھی حالت میں تھا جبکہ پرانی دری گھسی ہوئی تھی۔پہلے مجھے ڈر لگا کہ اگر اس عمارت کا مالک موجود ہوا تو مجھے چور سمجھ کر پکڑ لے گا۔پھر سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
صوفے پر ارام سے بیٹھ کر سموسے پکوڑے نکالے اور ڈبل روٹی کے ساتھ کھانے شروع کردئیے۔۔باہر چمکتی بجلی سے کمرے کی ہر چیز بالکل واضح دکھائی دے رہی تھی۔
اچانک مجھے یوں لگا کہ ساتھ والے کمرے میں کوئی زوز سے بولا۔۔خوف سے میرے ہاتھ کا نوالہ گر پڑا اور حلق میں پھندہ لگ گیا۔پانی تو وہاں تھا نہیں۔بڑی مشکل سے ہوش بحال ہوا۔۔۔
پھر رفتہ رفتہ باہر بارش کی اواز کم ہونا شروع ہوگئی۔میں نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو باہر بارش زیادہ شدت سے جاری تھی۔جوں ہی کھڑکی بند کی۔باہر کی آواز دوبارہ کم ہوگئی۔ساتھ والے کمرے سے پھر کسی کی آواز آئی۔اس بار ایک مرد عورت کی باتوں کی آواز بالکل واضح تھی جو انگریزی میں بات کر رہے تھے۔۔اندھیرے بارش اور سردی میں یہ آوازیں مکس ہورہی تھیں۔اس وقت تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ گھر کے مکین آپس میں بات کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں انگریزی میں بات کر رہے ہیں۔
مرد عورت کو ایلس کہہ کر مخاطب کر رہا ہے اور عورت بہت اداس ہے۔۔مرد کی آواز میں بھی بہت اداسی تھی۔
اس وقت مجھے انگلش تو نہیں آتی تھی لیکن ان دونوں کے بار بار دھرائے جانے والے فقرے مجھے اب بھی یاد ہیں۔
مرد کہتا تھا You Should go back to Home
جبکہ عورت بار بار کہہ رہی تھی
This is my Home ,I love this place
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب کہاں جاوں ۔یہان سے کیسے بھاگوں۔باہر تیز بارش اور شدید تھنڈ تھی۔جبکہ اندر خوف تھا کہ مکان کے مالک پکڑ لیں گے۔۔
وقت بھی بہت زیادہ ہوچکا تھا۔گھر والوں کی پریشانی کا سوچ کر بہت ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔
اچانک باہر کسی کار کی آواز آئی جو بہت اہستہ چل رہی تھی۔میں نے جھٹ کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ ایک گاڑی عین گھر کے سامنے رکی اور اس میں سے دو افراد بھاگ کر پورچ میں آ کھڑے ہوئے۔۔میں فورا باہر نکلا۔۔اصل میں اس گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر تھا مگر ڈرائیور بارش میں بدل نہیں پا رہا تھا۔اس لئیے انہوں نے گھر کے سامنے پناہ لی کہ بارش ہلکی ہو تو ٹائر بدلیں۔۔
اوپل کار کے ڈرائیور مقامی بڈھے چاچو تھے۔
انہوں نے مجھے کھڑکی سے باہر نکلتے دیکھا تو ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جیسے انہوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ان کے ساتھ انکا میرے جتنا بیٹا بھی تھا۔
میں نے انہیں سلام کیا تو وہ چونک کر بولے۔۔””او پترا تو کن ایں تے ایتھے کہہ کرنا ایں؟””بیٹا تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟
میں نے انہیں سب کچھ بتایا کہ میں بارش میں یہاں پھنس گیا تھا۔جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ اندر کوئی مرد عورت باتیں کر رہے ہیں تو انکی حالت غیر ہوگئی۔۔انہوں نے اپنے بیٹے اور مجھے کہا فورا گاڑی میں بیٹھو اور نکلو یہاں سے۔۔پکنچرٹائر کے ساتھ انہوں نے گاڑی چلانی شروع کی اور بار بار پیچھے بھی دیکھنے لگے۔۔ایک فرلانگ آگے جاکر انہوں نے گاڑی روکی۔ٹائر ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا تھا۔انہوں نے برستی بارش میں ٹائر بدلا ۔گاڑی بھگائی اور جھیکا گلی ماشاءاللہ ہوٹل کے سامنے پہنچ کر دم لیا ۔۔
انہوں نے وہاں کھانا اور چائے پلا کر مجھے کہا بیٹا اب یہاں ہی بیٹھو امید ہے دیول جانے والی کوئی گاڑی آئے گی تو تمہیں جگہ مل جائے گی۔وہ بہت خوفزدہ لگ رہے تھے۔انہوں نے نہ مجھ سےجھیکا گلی تک کا کرایہ لیا اور نہ کھانے کے پیسے دینے دئیےب۔پھر وہ مجھے وہاں چھوڑ کر چلے گئے۔۔
کافی دیر بعد قسمت سے مجھے پنڈی سے آنے والی ایک ویگن مل گئی اور میں گاوں پہنچا۔گھر والے بہت پریشان تھے۔پورے محلے کے مرد حضرات جمع تھے۔ایسے میں جب جاکر وہاں پہنچا تو پہلے مجھ سے میری داستان سنی گئی اور پھر باری باری تمام بزرگوں نے مجھے ڈھول کی طرح بجایا۔ٹھیک ٹھاک دھلائی کے بعد رات گیارہ بجے مجھے سونے کی اجازت ملی۔
برسوں بعد جب میں ڈگری کالج مری کا سٹوڈینٹ تھا تو ایک دن انہی چاچو سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔وہ اب بہت ضعیف ہوچکے تھے۔انکے بچے مری میں گاڑیاں چلاتے تھے۔میں نے انہیں وہ بات یاد دلائی تو وہ پھر خوفزدہ ہوگئے۔اس بار میں نے ان سے انکے خوفزدہ ہونے کی وجہ پوچھی۔
انہوں نے بتایا کہ بیٹا اس رات میں نے تمہیں کچھ نہیں بتایا تھا کہ تم چھوٹے بچے تھے ۔ڈر تھا کہ تم خوفزدہ ہوجاو گے۔۔
وہ گھر قیام پاکستان سے بہت پہلے سے بند پڑا ہوا تھا۔
وہاں انگریز فوج کے ایک کرنل صاحب رہا کرتے تھے جن کی بیوی کا نام ایلس بتایا جاتا تھا۔انکی بیوی انکی محبت میں سکاٹ لینڈ سے برٹش برصغیر آگئی تھی۔
جب کرنل صاحب کی مری پوسٹنگ ہوئی تو انہوں کشمیر پوائنٹ پر وہ گھر خرید لیا۔ ایلس بہت خوبصورت اور بہت مہربان خاتون تھی۔ وہ اپنے گھر میں کام کرنے والے نوکروں کی عورتوں کو کپڑے اور دیگر تحائف دیا کرتی تھی۔
ایلس کو پھولوں کا بہت شوق تھا۔اس کے گھر کا لان بہت خوبصورت تھا۔
گھر کے اوپر والا برامدہ سڑک سے نظر آتا تھا۔وہاں ہر طرف پھولوں کے گملے سجے ہوتے تھے۔
1899 کی سردیوں کی کسی شام ایلس اور کرنل صاحب مال روڈ پر جھیکا گلی کی طرف واک کرنے گئے تو راستے میں ایلس کا پاوں پھسلا اور اس کے سر میں ہلکی سی چوٹ لگی۔کرنل صاحب کے اسرار کے باوجود وہ ہسپتال نہیں گئی
وہ اس رات گھر کی اوپری منزل کے برامدے میں بیٹھ کر برف باری کا منظر دیکھتی رہی اور ایک غریب مقامی خاتون کے لئیے سوئیٹر بنتی رہی ۔اگلے دن جب صبح ہوئی تو ہر طرف برف کی سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔
ایلس اس سفید چادر کا حصہ بن چکی تھی۔
کرنل صاحب اس غم میں پاگل ہوگئے۔انہوں نے فوج کی نوکری چھوڑ دی اور ہر وقت گھر میں بند رہنے لگے۔۔انکے
کام کرنے والے ملازم بتایا کرتے کرنل صاحب ساری رات آتش دان کے سامنے باتیں کرتے رہتے ہیں جس میں کئی بار بیگم صاحبہ کی آواز بھی شامل ہوتی۔نوکر اس آواز کو اپنا وہم سمجھتے۔۔
ایلس کے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پھول کھلتے رہے۔درختوں پر پھل آتا رہا ۔۔
کرنل صاحب دن بھر برامدے میں اس جگہ بیٹھے رہتے جہاں ایلس نے آخری برف باری دیکھی تھی۔شام کو اسی اتش دان کے سامنے بیٹھ جاتے جہاں ایلس نے آخری سانس لی تھی۔۔۔
ایلس کی بنائی ہوئی آخری سوئیٹر مقامی خاتون نے ایک یاد گار کی طرح سنبھال کر رکھی تھی۔نوکر ہر روز جاکر ایلس کی قبر پر گلاب کی پتیاں رکھتے۔۔
ایک رات کسی ملازم نے اوپر والے برامدے میں ایلس کو ٹہلتے دیکھا۔دوسرے دن خوف کی وجہ سے تمام ملازم گھر چھوڑ کر چلے گئے۔کرنل صاحب کا وفادار پرانا ملازم باقی رہ گیا۔اب وہی کرنل صاحب کا خیال رکھتا۔۔آہستہ اہستہ وہ گھر ویران ہونے لگا۔
پھول پھلواریاں مرجھانے لگیں۔۔ایلس کی لگائی ہوئی بوگن ویلیا کی بیل بھی سوکھ گئی۔۔
سرما کی لمبی سرد طوفانی راتوں میں ایلس برامدے میں ٹہلتی دکھائی دیتی
اب تو کرنل صاحب سے ملنے والے دوست بھی اس گھر میں آنے سے گبھرانے لگے۔۔
کرنل صاحب کبھی واپس نہیں گئے۔انہیں ایلس کے مری سے جدا ہونا گوارہ نہیں تھا۔انکے خاندان اور دوستوں نے بہت چاہا کہ وہ سکاٹ لینڈ واپس چلے جائیں مگر وہ نہیں مانے۔۔۔
ایلس کی یاد سینے سے لگائے کرنل صاحب کے کئی سال اس گھر میں بیت گئے۔۔ایلس کے بعد وہ ہمیشہ تنہاء رہے۔کتابیں پڑھتے رہتے پائپ پیتے رہتے۔۔
1910 میں کرنل صاحب کا انتقال ہوا۔ وہ مری کلفڈن کیمپ کے گورا قبرستان میں ایلس کی قبر کے پہلو میں دفن ہوئے۔۔۔
وہ بنگلہ ویران ہوگیا۔انگریز دور میں حکومت نے کئی بار سکاٹ لینڈ میں کرنل صاحب کے رشتے داروں کو خط لکھ کر بنگلا فروخت کرنے کی اجازت مانگی مگر کوئی جواب نہ آیا۔۔
ایلس اب بھی یہاں سےگزرنے والوں کو کبھی کبھی دکھائی دیتی
قیام پاکستان کے بعد ہنگاموں کے دوران کسی نے اس گھر کو نقصان نہیں پہنچایا ۔لوگ خوف سے ادھر آتے ہی نہیں تھے۔۔بعد میں یہ بنگلہ کسی کو کلیم میں الاٹ ہوا مگر اس کے مالکان کبھی یہاں نہیں رہے۔۔
چاچو نے جب یہ داستان سنائی تو برسوں بعد مجھے بھی بہت خوف محسوس ہوا کہ میں جن آوازوں کو کو گھر کے مالک کی آواز سمجھ رہا تھا وہ تو روحوں کی آوازیں تھیں۔۔
اوپل کار والے چاچو کو انکے والد صاحب نے یہ ساری داستان سنائی تھی۔کرنل صاحب کا پرانا ملازم ان کا دوست تھا
میں کالج کے زمانے میں کبھی اس طرف نہ جاسکا۔۔
2002 کے بعد مری شہر کنکریٹ کا جنگل بننا شروع ہوا۔ہر طرف بے ہنگم تعمیرات کی بھرمار ہوگئی۔قدرتی حسن اور خالی جگہوں پر جس کا داو لگا اس نے ریت سمینٹ کے پلازے کھڑے کردئیے۔۔وہ بنگلہ بھی شائد اسی دور میں کسی نئی تعمیر کی زد میں آکر ختم ہوا۔
برسوں بعد جب میں وہاں گیا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد نہیں تھاکہ وہ بنگلہ خاص کس جگہ پر تھا۔
اب وہاں ہر طرف کمرشل بلڈنگوں اور ہوٹلوں کی بھرمار ہے۔۔
مری جی پی او بلڈنگ کے پیچھے سے اور ہوٹل موو اینڈ پک کے سامنے سے جو سڑک کشمیر پوائیٹ کی طرف جاتی ہے وہاں اوپر جاکر وہ بنگلہ کسی جگہ بنا ہوا تھا۔
2009 میں دبئی سے واپسی پر مجھے مری کی پرانی تاریخ کھوجنے کا شوق پیدا ہوا۔مری شہر انگریزوں نے بسایا تھا۔اس سے پہلے مری نام کی کوئی جگہ موجود نہیں تھی۔مری کی مقامی قدیم تاریخ اور مری کی کالونیل تاریخ میرا شوق ہے۔۔
یہی شوق مجھے مری کلفڈن کیمپ کے گورا قبرستان لے گیا۔
ایلس وہاں موجود تھی۔
سفید سنگ مرمر کی قبر موسموں کی سختیوں سے پیلی پڑ چکی تھی۔۔قبر کی لوح خود رو گھاس میں چھپی ہوئی تھی۔۔۔ہوا کے ایک جھونکے سے قبر کی لوح عیاں ہوئی اور اس پر لکھا ایلس کا نام گویا مسکرانے لگا۔۔۔
1899 کی تاریخ اور انگریزی عبارت لکھی ہوئی تھی۔۔کرنل صاحب کا نام بھی لکھا تھا ۔۔
کلفڈن کیمپ قبرستان کا یہ حصہ قریبی برساتی نالے سے پتھر نکالنے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈ کا شکار ہوچکا تھا۔کرنل صاحب کی قبر غائب ہوچکی تھی جبکہ ایلس کی قبر ہنوز باقی تھی۔قبرستان کے چو کیدار کے مطابق برساتی نالے میں قبرستان کی طرف والے نشیب میں سے غیر قانونی طور پر پتھر نکالے جارہے تھے جس کے سبب لینڈ سلائڈنگ شروع ہوئی ۔
اگلی بار قطر سے واپسی پر 2020 میں وہاں گیا تو قبرستان کا وہ حصہ ختم ہوچکا تھا
کچھ قبریں لینڈ سلائیڈ کی زد میں آکر کافی نیچے جا پڑی تھیں۔کچھ قبریں زمین میں دفن ہوچکی تھیں۔
ایلس کی قبر بھی غائب ہوچکی تھی۔۔
مری سے محبت کرنے والی ایک خاتون کو مرنے کے بعد نجانے کس نے بے گھر کر دیا۔
میں نے مری مال روڈ چرچ جاکر پادری صاحب کو قبرستان کی حالت زار بتائی۔۔پاکستان کرسچئین سوسائیٹی کو خط لکھا ۔برٹش ہائی کمیشن کو خط لکھا۔۔گورنمنٹ آف پنجاب کو خط لکھا مگر کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔میری ایک ہی خواہش رہی کہ کاش مری کے پرانے قدیم قبرستان کسی طرح محفوظ ہوسکیں۔انکے گرد چار دیواری بن جائے۔وہاں لائیٹ لگی ہوں۔پھول لگائے جائیں۔سیاح وہاں وزٹ کرنے آئیں۔مقامی حکومت کو وہاں سے آمدنی ہو جو وہاں پر ترقیاتی کاموں میں خرچ کی جائے
مری کے قدیم قبرستان مری کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ایک انسانی ورثہ ہیں۔اگر ان پر توجہ دی جائے تو ایک بہترین وزٹنگ سائٹ بن سکتے ہیں۔سب سے پہلے اس انتہائی قیمتی زمین کو قبضے سے بچانا چاہئیے۔۔یہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ملکیتی زمین ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں قبروں پر خوبصورت کتبے اور مجسمے لگے ہوتے تھے جو ہمارے لوگوں نے بہت جوش و جذبے سے توڑے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ قبرستان سٹیپ بائی سٹیپ تراشے ہوئے پتھروں کی دیواریں بنا کر بنایا گیا جس میں صاف مٹی بھری گئی تھی۔یہاں پھولوں کے لئیے پانی کا انتظام تھا۔روشنی اور چوکیدار کا انتظام تھا۔ایک طرف اوپر سے نیچے تک جانے والی سیڑھیاں تھیں جس کے گیٹ کے کالم تراشے ہوئے پتھروں سےبنائے گئے تھے۔ایک کالم ابھی تک موجود ہے۔ایک دو قبروں کا حفاظتی جنگلا موجود ہے جبکہ باقی جنگلے غائب ہوچکے ہیں۔قبرستان کا ایک حصہ 1948 کی پاک بھارت کشمیر جنگ میں انڈین ہوائی بمباری کی زد میں بھی آیا تھا۔
یہاں لگے لوہے کے گیٹ غائب ہوچکے ہیں۔پھولوں کی کیاریاں ختم ہوگیں۔کتبے اور مجسمے ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں آوارہ جانور گھومتے ہیں۔حساس علاقہ قریب ہونے کے باوجود یہاں رنگ رنگ کے اجنبی لوگ رہتے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ آنے والے سالوں میں اس حسین قبرستان کی نہائیت قیمتی زمین کے حصے غائب ہونا شروع ہوجائیں۔
ہم قبروں کو معاف نہیں کرتے ہیں جبکہ زندوں کے آگے محکوم بن جاتےہیں۔چاہے وہ انگریز ہی کیوں نہ ہوں۔انگریزی دور میں کسی کو اس قبرستان کے قریب پھٹکنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔سارا علاقہ قدرتی حسن اور درختوں سے بھرا ہوا تھا۔
انسانی ورثہ ساری دنیا کے انسانوں کی ملکیت ہوتا ہے۔کسی مذہب کی بنیاد پر اسے تقسیم نہیں کیا جاتا۔۔ویسے بھی ہمارا دین دوسروں کی عبادت گاہوں اور قبروں کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔۔لیکن جزبات اور انتہاءپسندی میں ڈوب کر ہم اپنی دینی تعلیمات بھول جاتے ہیں۔
گاڑی والے چاچو بھی یقیننا فوت ہوچکے ہونگے۔۔
برستی بارش میں سنی جانے والی ایلس اور کرنل صاحب کی وہ گفتگو اب یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو یہی سمجھ آتا ہے کہ کرنل صاحب ایلس کو شائد واپس انگلینڈ بھیجنا چاہتے تھے مگر ایلس مری کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔
اسے مری سے محبت ہوگئی تھی۔۔
یہ اس کی دوسری محبت تھی۔۔
پہلی محبت کی خاطر وہ سکاٹ لینڈ چھوڑ کر مری آئی
اور
دوسری محبت کی خاطر اس نے اسی سر زمین میں دفن ہونا پسند کیا۔۔
کرنل صاحب اور ایلس آج بھی مری میں موجود ہیں مگر بے نشان ہوچکے ہیں۔۔
محبت کی یہ داستان وقت کی گرد میں کھو چکی ہے۔






