
**خلیج اردو**
دبئی: دبئی میں کاروباری شخصیات کا روپ دھارنے والے ایک گروہ نے لاکھوں درہم مالیت کا سامان خرید کر غائب ہو جانے کے بعد اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی، مگر چیٹ جی پی ٹی سے تیار کردہ ایک ای میل میں کی گئی معمولی غلطی ممکنہ طور پر ان کی شناخت بے نقاب کر سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بر دبئی میں قائم ایک فوڈ اسٹف کمپنی کے نام پر جعل ساز گروہ نے مختلف تاجروں سے بڑی مقدار میں اشیائے خوردونوش خریدیں۔ یہ سودے جعلی ادائیگی مشوروں اور موخر تاریخ والے چیکس کے ذریعے کیے گئے۔ مگر چیکس کلیئر ہونے سے پہلے ہی کمپنی بند کر دی گئی اور گروہ کے ارکان لاپتہ ہو گئے۔
تاہم ایک ای میل، جو کمپنی کی نمائندہ "عائشہ” کے نام سے ایک سپلائر کو بھیجی گئی تھی، نے تفتیش کاروں کو پہلی بار ایک قابلِ سراغ نشان فراہم کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق عائشہ نے اپنا پیغام "زیادہ پیشہ ورانہ” بنانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی مدد لی، مگر تیار شدہ ای میل میں ایک ایسا یوزر نیم اور ٹائم اسٹیمپ شامل تھا جو مبینہ طور پر اس کی اصل شناخت سے منسلک تھا۔
تاجر ستیہ موہن، جنہوں نے 2 لاکھ 93 ہزار درہم مالیت کی لال مرچ سپلائی کی تھی، نے بتایا کہ انہیں کمپنی کی جانب سے 79,800 ڈالر کی جعلی ادائیگی مشورہ دیا گیا۔ "جب میں بینک گئی تو بتایا گیا کہ ادائیگی جعلی ہے۔ جب کمپنی کے دفتر پہنچی تو وہ بند تھا اور کوئی وہاں موجود نہیں تھا۔”
ان کے مطابق اب وہ اور دیگر متاثرہ سپلائرز پولیس سے رابطے میں ہیں، جبکہ کمپنی کے تمام نمبرز بند ہیں۔ ایک اور تاجر نے بتایا کہ وہ 70 ہزار درہم مالیت کی مونگ پھلی سے محروم ہو گیا، جبکہ تیسرے سپلائر نے 18,900 درہم کے گرین ٹی کی فراہمی کے بعد نقصان برداشت کیا۔
پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے، اور متاثرہ تاجروں کو امید ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں چھوڑی گئی یہ تکنیکی "غلطی” اس جعل ساز نیٹ ورک کی اصل شناخت تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
—







