عالمی خبریں

حماس کا غزہ میں کریک ڈاؤن، ٹرمپ کا گروپ کو غیر مسلح کرنے کا اعلان

خلیج اردو
غزہ: حماس نے منگل کے روز غزہ کے تباہ شدہ علاقوں میں سخت کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے مبینہ طور پر اسرائیل سے تعلق رکھنے والے افراد کو سزائے موت دے دی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا، اگر گروپ نے خود ہتھیار نہیں ڈالے تو اسے زبردستی غیر مسلح کیا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حماس نے چار مزید یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں، اس سے قبل چار دیگر یرغمالیوں کی لاشیں اور بیس زندہ افراد رہا کیے گئے تھے۔

حماس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں آٹھ افراد کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گولی مار کر قتل کرتے دکھایا گیا، جنہیں تنظیم نے "غدار” اور "جرائم پیشہ عناصر” قرار دیا۔ ویڈیو کے اجرا کے وقت غزہ کے مختلف علاقوں میں حماس کی سیکیورٹی فورسز اور مقامی مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔

غزہ کے شمالی حصے میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد حماس کی حکومت کے سیاہ نقاب پوش اہلکاروں نے دوبارہ سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے قیدیوں کی واپسی پر حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے جنگجوؤں نے ہجوم کو کنٹرول کیا۔

ایک فلسطینی سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ حماس کا نیا قائم کردہ "ڈیٹرنس فورس” یونٹ ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے جن پر اسرائیلی حمایت کے الزامات ہیں۔ اس ذریعے کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد شہریوں کی سلامتی اور استحکام یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا 20 نکاتی منصوبہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے متعلق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو حماس اراکین ہتھیار ڈال دیں گے انہیں معافی دی جائے گی، لیکن جو مزاحمت کریں گے ان سے طاقت کے ذریعے ہتھیار چھینے جائیں گے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا، "اگر وہ خود ہتھیار نہیں ڈالیں گے تو ہم انہیں غیر مسلح کریں گے، اور یہ عمل تیزی سے ہوگا، چاہے سختی سے ہی کیوں نہ ہو۔”

امریکی صدر کے زیرِ صدارت مصر میں منعقدہ عالمی اجلاس میں اس منصوبے کی توثیق کی گئی جس کے مطابق غزہ کو غیر عسکری علاقہ بنایا جائے گا اور حماس کا مستقبل کی فلسطینی حکومت میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

غزہ میں جنگ بندی کے بعد جب سیکیورٹی فورسز نے دوبارہ گشت شروع کیا تو مقامی شہریوں نے اسے اطمینان بخش قرار دیا۔ ایک رہائشی ابو فادی البنّا نے کہا، "جب پولیس دوبارہ سڑکوں پر آئی تو ہمیں ایک طویل عرصے بعد امن کا احساس ہوا۔”

ادھر اسرائیلی خاندانوں نے اپنے پیاروں کی باقیات کی واپسی کے مطالبے میں احتجاج جاری رکھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق واپس کی جانے والی لاشوں میں دو اسرائیلی شہری اور دو غیر ملکی شامل ہیں جن میں نیپال کا ایک زرعی طالب علم بھی تھا۔

حماس کے کریک ڈاؤن اور ٹرمپ کے سخت مؤقف نے غزہ کی سیاسی اور انسانی صورتحال میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button