عالمی خبریں

نوکری کھو دی؟ متحدہ عرب امارات میں آمدن رکنے کی صورت میں اپنے خاندان کا تحفظ کیسے کریں

خلیج اردو
نوکری سے محرومی صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایک جذباتی صدمہ بھی ہوتی ہے، جو اکثر انسان کو مختلف مراحل سے گزارتی ہے۔ دبئی میں مقیم انوش چوہان بھی اسی کیفیت سے گزریں۔ وہ بتاتی ہیں، "یہ سب اچانک ہوا، میرے دو بچے تھے اور اچانک آمدن رک گئی۔ پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں۔ کئی دن گزر گئے، وقت ہی وقت تھا اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔”

انوش کے مطابق یہ غم کے کئی مراحل تھے۔ "ایسا لگا جیسے میں ناکام ہو گئی ہوں، حالانکہ زندگی میں کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ گزرے وقت کو سوچنے کے بجائے آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے۔”

اسی طرح دبئی میں مقیم مالویکا سہنی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے ملازمت کر رہی تھیں، آج بھی اپنی پرانی نوکری کے بارے میں سوچ کر جذباتی ہو جاتی ہیں۔ "میں نے 15 سال اس کمپنی میں کام کیا، اپنی صحت اور خاندان پر بھی کام کو ترجیح دی۔ جب مجھے اچانک فارغ کیا گیا تو یہ ناقابل یقین تھا۔ اب بھی سوچتی ہوں کہ کیا میں کچھ مختلف کر سکتی تھی؟”

یہ صرف آمدن کا نقصان نہیں بلکہ انسان کی شناخت اور زندگی کے توازن کا بھی نقصان ہے۔ مالی ماہر بیتھ کلی کے مطابق، "جب آپ کی نوکری جاتی ہے تو صرف تنخواہ نہیں جاتی، بلکہ روزمرہ کا نظام اور تحفظ کا احساس بھی متاثر ہوتا ہے۔”

ماہرین کے مطابق، اس مرحلے میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ آپ خود کو اس صدمے کو محسوس کرنے کی اجازت دیں۔ اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے انہیں قبول کریں۔ جیسا کہ مارِسا کمال، خواتین کی رہنمائی کے پلیٹ فارم GAIA کی بانی، کہتی ہیں: "یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک عبوری مرحلہ ہے، آپ کی قدر کم نہیں ہوئی، صرف حالات بدلے ہیں۔”

جب جذبات کچھ قابو میں آجائیں تو دوسرا مرحلہ اپنے ذہن اور مالیات پر قابو پانے کا ہے۔ بجٹ ترتیب دیں، غیر ضروری اخراجات کم کریں، اور اپنے سپورٹ نیٹ ورک سے مدد حاصل کریں۔ اپنے دوستوں، خاندان اور کمیونٹی سے رابطہ رکھنا اس عمل میں سب سے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button