
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ماہرین قانون نے خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا ایپس پر ہونے والی نجی چیٹس بھی سائبر کرائم قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور معمولی غلطی بھی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اکثر افراد لاعلمی میں قوانین کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں، خاص طور پر غیر مصدقہ خبریں فارورڈ کرنا، بغیر اجازت تصاویر یا گفتگو شیئر کرنا اور حساس معاملات پر گمراہ کن مواد پھیلانا عام غلطیوں میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ گروپس میں کسی پیغام کو آگے بھیجنا دراصل اسے دوبارہ شائع کرنے کے مترادف ہوتا ہے، چاہے بھیجنے والا اس کا اصل خالق نہ بھی ہو، ایسے میں غلط یا ہتک آمیز مواد شیئر کرنے پر بھی قانونی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سائبر کرائم قوانین کے تحت جرمانے ڈھائی لاکھ درہم سے لے کر پانچ لاکھ درہم یا اس سے زائد ہو سکتے ہیں جبکہ قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ اماراتی عدالتیں واٹس ایپ، ای میل یا دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے مواد شیئر کرنے کو باقاعدہ اشاعت تصور کرتی ہیں اور شواہد کے طور پر چیٹ ریکارڈ، اسکرین شاٹس اور ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے۔
گروپ ایڈمنز کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ اگرچہ ان پر ہر پیغام کی نگرانی لازم نہیں، تاہم غیر قانونی مواد کی موجودگی سے آگاہ ہونے کے بعد اسے نہ ہٹانا بھی جرم بن سکتا ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مشکوک یا اشتعال انگیز پیغامات سے دور رہیں، انہیں فارورڈ نہ کریں، اور بار بار ایسے مواد کی صورت میں گروپ چھوڑ دیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
یہ وارننگ ظاہر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ نجی پیغامات بھی قانونی دائرے سے باہر نہیں۔





