
خلیج اردو
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی مبینہ طور پر کم سن بچیوں کے اغواء، گھروں میں زبردستی گھسنے، ڈکیتی اور جھوٹے مقدمات بنانے میں ملوث ہونے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو بھیجنے کا عندیہ بھی دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب خود خاتون ہیں، اس لیے انہیں متاثرہ خاتون اور بچیوں کے اغواء کے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کرنی چاہیے۔ عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دیں تاکہ مقدمے کی شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد پیش ہوئے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ تین بچیوں اور ان کی والدہ کو اغواء کیا گیا، اور جعلی مقابلے کے بعد بچیوں کو چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بھیج دیا گیا۔ ایک خاتون کو بچیوں سمیت گھر سے اٹھا کر تھانے میں بند کرنے کی بھی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔






