
خلیج اردو
پشاور: صوبائی حکومت کے زیرِ اہتمام پشاور میں امن جرگہ منعقد ہوا جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سواتی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عطاالرحمن سمیت دیگر سیاسی و قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر صوبے کے امن کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومت اگر مل کر کام کریں تو دہشتگردی اور بدامنی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سیاستدانوں، اسٹیک ہولڈرز اور تمام سیاسی جماعتوں کے عہدیداران کو ساتھ بٹھا کر مشترکہ پالیسی بنانی ہوگی۔
اسپیکر بابر سواتی نے کہا کہ ہمارے پاس بہادر فوج ہے مگر صرف آپریشن سے مسائل حل نہیں ہو رہے، اس کے لیے سیاسی اور سماجی سطح پر بھی اقدامات ضروری ہیں۔
سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ افغانستان کا پاکستان کے بغیر کوئی کاروبار نہیں چل سکتا، دونوں ممالک کو باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہییں۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صوبے کے امن و ترقی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
مولانا عطاالرحمن نے کہا کہ افغانستان سے مذاکرات کے دوران جو لہجہ اپنایا گیا، اس میں نرمی لانا ہوگی تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔






