پاکستانی خبریں

صدرِ مملکت نے آرمی، نیوی اور ایئرفورس سے متعلق تینوں ترمیمی بلز کی باقاعدہ توثیق کر دی، جس کے بعد یہ ترمیمی بلز متعلقہ قوانین کا مستقل حصہ بن گئے ہیں

خلیج اردو
اسلام آباد:صدرِ مملکت نے آرمی، نیوی اور ایئرفورس سے متعلق تینوں ترمیمی بلز کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے انہیں متعلقہ قوانین کا مستقل حصہ بنا دیا ہے۔ آرمی ترمیمی ایکٹ 2025 اب پاکستان آرمی ایکٹ میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ نیوی ترمیمی بل 2025 اور ایئرفورس ترمیمی بل 2025 بھی اپنے اپنے قوانین کا حصہ بن گئے ہیں۔

تینوں قوانین میں ترامیم ستائیسویں آئینی ترمیم کی روشنی میں کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے ان بلز کو توثیق کے لیے صدرِ مملکت کو بھجوایا تھا، اور گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد وزارتِ پارلیمانی امور نے سمری ایوانِ صدر کو ارسال کی تھی۔

آرمی ایکٹ میں ایک اہم ترمیم کے تحت سیکشن 176 بی میں سے "حکومت” کا لفظ نکال دیا گیا ہے، جس کے بعد تقرری کا اختیار آرمی چیف کی سفارش پر دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ کلاز 8 جی میں ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائے گا۔ وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر تین سال کے لیے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔

مزید ترامیم کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی شرائطِ ملازمت، قواعد و ضوابط اور دوبارہ تعیناتی کا مکمل اختیار وزیراعظم کے پاس ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر اس مدت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دی جا سکے گی۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری یا توسیع کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔

آرمی ایکٹ کے متعلقہ قوانین — جن میں ریٹائرمنٹ کی عمر، سروس کی مدت اور سبکدوشی شامل ہیں — کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ پر لاگو نہیں ہوں گے، اور وہ پاکستان آرمی میں بطور جنرل خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت اس دن سے شروع ہوگی جس دن نوٹیفکیشن جاری ہوگا، اور آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ ایک اور ترمیم کے مطابق جب کسی جنرل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی تو وہ متعلقہ ذیلی سیکشن دو کے تحت خدمات انجام دیں گے۔ وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کے فرائض و ذمہ داریوں کا تعین کرے گی، تاہم ان کی ملٹی ڈومین ذمہ داریوں کو محدود نہیں کیا جا سکے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button