
خلیج اردو
دبئی کی ایک دیوانی عدالت نے ایک عرب شہری کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک خاتون کو 14 لاکھ 70 ہزار درہم واپس کرے، جو اس نے اسے نقد اور اس کے نام پر لیے گئے بینک قرض کی صورت میں دیے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ خاتون اپنی ادا کردہ تمام رقم واپس لینے کی حقدار ہے، تاہم فریقین کے درمیان طے پانے والے زائد 40 ہزار درہم کے منافع کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا، جیسا کہ امارات الیوم نے رپورٹ کیا۔ دعوے کے مطابق خاتون نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مدعا علیہ کو 14 لاکھ 10 ہزار درہم کے ساتھ 5 فیصد قانونی سود سمیت رقم واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔ خاتون کے مطابق مرد نے پانچ چیک جاری کیے تھے جن کی مجموعی مالیت 13 لاکھ 70 ہزار درہم تھی، لیکن بینک نے انہیں پرانے چیک بُک پر جاری ہونے کی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مسئلے کے حل کے لیے کئی بار رابطے کے باوجود مدعا علیہ نے ادائیگی سے انکار کیا جس پر خاتون نے مقدمہ دائر کر دیا۔
عدالت کی جانب سے مقرر کردہ مالی ماہر نے تصدیق کی کہ دونوں فریقوں کے درمیان قرض کا ایک درست معاہدہ موجود ہے اور مدعا علیہ پر لازم ہے کہ وہ بینک قرض کی مکمل رقم، اس کا سود، اور نقد میں لی گئی رقم واپس کرے۔ ماہر نے یہ بھی بتایا کہ جائیداد کے ذریعے رقم کی وصولی ممکن نہیں رہی کیونکہ مدعا علیہ اور شریک مالک نے وہ جائیداد تیسرے فریق کو فروخت کر دی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد سے مدعا علیہ نے دعویدار کو کوئی رقم ادا نہیں کی۔
دونوں جانب سے جمع کرائے گئے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ قرض کا معاہدہ سول ٹرانزیکشنز لا کے آرٹیکلز 125، 243 اور 710 کے تحت قانونی طور پر درست ہے، جن کے مطابق فریقین پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاہدے کی شرائط پوری کریں اور قرض وقت پر واپس کریں۔ تاہم جج نے 40 ہزار درہم کے اضافی منافع کی شق کو آرٹیکل 714 کے تحت کالعدم قرار دیا، جو ذاتی سول قرضوں میں قرض دہندہ کے لیے کسی زائد مالی فائدے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ شق کو کالعدم کرنے کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ بنیادی قرض معاہدہ برقرار رہے گا کیونکہ اس کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔
عدالت نے مدعا علیہ کو حکم دیا کہ وہ 14 لاکھ 70 ہزار درہم، یعنی اصل قرض کی رقم بغیر اضافی منافع کے، کیس دائر ہونے کی تاریخ سے مکمل ادائیگی تک 5 فیصد سالانہ سود کے ساتھ واپس کرے۔ عدالت نے فوری نفاذ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مدعا علیہ کو عدالتی اخراجات اور وکیل کی فیس بھی ادا کرنے کا پابند کیا۔







