
خلیج اردو
تاجکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے سرحدی حملے میں پانچ چینی مزدوروں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔
صدر امام علی رحمان نے حکام کو ہدایت کی کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری انتظامات فوری طور پر کیے جائیں، تاکہ سرحدی علاقے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ تاجک صدر نے افغان حکام سے تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ایسے حملوں کو روکا جا سکتا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔







