
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں ملک میں بڑے معاشی بوم کا وعدہ کرتے ہوئے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اپنے ڈیموکریٹ پیش رو جو بائیڈن کو قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے براہِ راست خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گیارہ ماہ قبل انہوں نے ایک بگڑی ہوئی معیشت سنبھالی اور اب اسے درست سمت میں لے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مہنگائی اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں عوام میں بے چینی کا باعث بنی ہیں، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ پیٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پیش رفت واضح ہے اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔
خطاب کے دوران ایک غیر متوقع اعلان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ 14 لاکھ 50 ہزار امریکی فوجی اہلکاروں کو کرسمس سے قبل 1776 ڈالر فی کس بطور “وارئیر ڈیویڈنڈ” بونس دیا جائے گا، جو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن سے ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ رقم امریکا کے قیام کے سال کی مناسبت سے رکھی گئی ہے، کیونکہ آئندہ سال ملک اپنی 250ویں سالگرہ منانے جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے 2026 میں غیر معمولی معاشی ترقی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے معاشی بوم کے دہانے پر کھڑا ہے جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، خصوصاً اس سال جب امریکا کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔
تاہم خطاب کا بڑا حصہ بائیڈن، ڈیموکریٹس اور مہاجرین پر تنقید پر مشتمل رہا، جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکیوں کی نوکریاں چھینیں۔ اس کے جواب میں ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہیں، جبکہ عوام بڑھتی قیمتوں اور بے روزگاری سے پریشان ہیں۔
سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ کو معیشت کے معاملے پر شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے، اور حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں مہنگائی کو عوام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔







