عالمی خبریں

مصری اداکارہ سمیہ الالفی 72 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

خلیج اردو

دبئی: عرب دنیا کی نامور مصری اداکارہ سمیہ الالفی طویل عرصے تک کینسر سے جدوجہد کے بعد 72 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی عرب ٹیلی وژن اور فلمی دنیا کا ایک طویل اور نمایاں باب اختتام پذیر ہو گیا، جسے فنی پختگی، جذباتی گہرائی اور ہمہ گیر مقبولیت کے باعث یاد رکھا جائے گا۔

سمیہ الالفی 2017 سے کینسر میں مبتلا تھیں اور اس دوران یورپ اور امریکا کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہیں، جس کے باعث وہ تقریباً چھ برس تک منظر عام سے دور رہیں۔ انہیں بریسٹ کینسر اور لمفی پیچیدگیوں سمیت متعدد طبی مسائل کا سامنا رہا، جس کے علاج کے لیے کئی سرجریز، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کے طویل مراحل سے گزرنا پڑا۔ 2023 میں انہوں نے بیماری کے ختم ہونے کا اعلان کیا تھا، تاہم طویل علاج کے اثرات ان کی صحت پر اثر انداز ہوتے رہے۔

سمیہ یوسف الالفی 23 جولائی 1953 کو مصر کے صوبہ الشرقیہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے فیکلٹی آف آرٹس سے سوشیالوجی کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اداکاری کے شعبے کا رخ کیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں وہ مصری ڈرامے کا نمایاں چہرہ بن گئیں اور خاندانی، سماجی اور طبقاتی موضوعات پر مبنی ڈراموں میں اپنی منفرد پہچان قائم کی۔

ان کے مشہور ڈراموں میں لیالی الحلمیہ، الرایہ البیضا، بوابت الحلوانی، العطار والسبع بنات، الطوفان اور قلب من ذهب شامل ہیں، جبکہ متعدد فلموں کے ذریعے بھی انہوں نے عرب پاپولر کلچر میں اپنی مضبوط جگہ بنائی۔ ان کی آخری اسکرین موجودگی 2010 میں سامنے آئی، جس کے بعد انہوں نے علاج پر توجہ دینے کے لیے اداکاری چھوڑ دی۔

سمیہ الالفی کی ذاتی زندگی بھی خبروں کا حصہ رہی۔ ان کی چار شادیاں ہوئیں، جن میں سب سے نمایاں مرحوم اداکار فاروق الفشاوِی سے شادی تھی، جن سے ان کے دو بیٹے ہیں، جن میں اداکار احمد الفشاوِی بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں ان کی شادیاں موسیقار مودی الامام، ہدایتکار جمال عبد الحمید اور گلوکار مدحت صالح سے ہوئیں، تاہم یہ تمام رشتے طلاق پر ختم ہوئے۔

سمیہ الالفی اپنے پیچھے دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑ گئیں، جبکہ عرب ڈرامہ انڈسٹری ایک باوقار اور یادگار فنکارہ سے محروم ہو گئی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button