متحدہ عرب امارات

برج خلیفہ پر نئے سال کے لیے دنیا کی طاقتور ترین لائٹس کی تنصیب کے مناظر سامنے آ گئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے سال کی آمد کا مطلب آتش بازی، شاندار ڈرون شوز اور عالمی ریکارڈز کا قیام ہوتا ہے، اور اس تمام جشن کا مرکز دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بنتی ہے۔ ہر سال اکتیس دسمبر کو لاکھوں افراد اس لمحے کے منتظر ہوتے ہیں جب برج خلیفہ روشنیوں اور آتش بازی سے جگمگا اٹھتا ہے، جہاں ہر شو پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ منفرد اور بڑا ہوتا ہے۔

دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں ہزاروں افراد نئے سال کے جشن کے لیے جمع ہوتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد لائیو اسٹریم کے ذریعے یہ مناظر دیکھتے ہیں، تاہم اس شاندار مظاہرے کے پیچھے کارکنوں اور تکنیکی ٹیموں کی مہینوں پر محیط محنت شامل ہوتی ہے۔ شو کی تیاری میں دستی مشقت، مہارت، درست ٹائمنگ اور مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ دنیا کی بلند ترین عمارت نئے سال کی الٹی گنتی بلا تعطل مکمل کر سکے۔

ایمار پراپرٹیز کے بانی محمد العبار نے دنیا کی طاقتور ترین لائٹ انسٹالیشن کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے تکنیکی ٹیموں کی غیر معمولی کاوشوں کو سراہا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارکنان انتہائی بلندی پر برج خلیفہ کے بیرونی حصے سے مضبوط رسیوں کے ذریعے لٹک کر جدید لیزرز اور لائٹ فکسچرز نصب کر رہے ہیں، جبکہ دیگر ٹیمیں شو کے تکنیکی کنٹرول اور ٹائمنگ سنبھالے ہوئے ہیں۔

شو کے منتظمین کے مطابق اس منصوبے کی تیاری میں چھ ماہ لگے، جبکہ الٹی گنتی کے آخری لمحات میں ہر سیکنڈ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق برج خلیفہ پر تقریباً دو سو پچاس لائٹ فکسچرز اور ستر لیزرز نصب کیے گئے تھے۔ ایک سو اسی دن کی منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے بعد اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس کو برج خلیفہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا اور دبئی نے یکم جنوری دو ہزار چھبیس کا شاندار استقبال کیا، جہاں سڑکیں اور فٹ پاتھ دیکھنے والوں کے لیے ویونگ ڈیکس میں تبدیل ہو گئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button