
خلیج اردو
دبئی میں متعارف کرائے جانے والے نئے ٹرانسپورٹ سسٹمز مصروف علاقوں میں مختصر فاصلے کے کار سفر کی جگہ لے کر ٹریفک میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ یہ بات یو اے ای کے ٹریفک اور روڈ سیفٹی ماہر ڈاکٹر مصطفیٰ الدح نے کہی۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدح کے مطابق ڈاؤن ٹاؤن دبئی، ڈی آئی ایف سی، القوز اور مال آف دی ایمریٹس کے اطراف جیسے مصروف علاقوں میں ٹریفک کی بڑی وجہ آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ روزمرہ سفر کے طریقے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آج بھی دو سے پانچ کلومیٹر کے مختصر سفر کے لیے گاڑی استعمال کرتے ہیں، جس سے رش کے اوقات میں سڑکوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدح نے کہا، "ٹریفک براہ راست اس بات کا نتیجہ ہے کہ لوگ اب پیدل نہیں چلتے، شہر مختلف آبادیاتی مراکز میں تقسیم ہو چکا ہے اور زیادہ تر افراد کو روزانہ طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں”۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے دوران دبئی نے ٹریفک میں کمی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان منصوبوں میں مرکزی علاقوں میں تیز رفتار زیرِ زمین سفر اور میٹرو اسٹیشنز سے قریبی مقامات تک بغیر ڈرائیور کے چلنے والے فیڈر سسٹمز شامل ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدح کے مطابق دبئی میں تقریباً 90 فیصد ٹریفک کاروباری سرگرمیوں اور روزانہ آفس آنے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے، جبکہ ذاتی اور تفریحی سفر کا حصہ نسبتاً کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری نظام اس وقت بہتر کام کرتا ہے جب بڑے پیمانے پر پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ آخری فاصلے کے لیے مؤثر فیڈر سسٹمز موجود ہوں، تاکہ لوگوں کو گاڑی استعمال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
ماہرین کے مطابق خودکار اور ڈرائیور لیس ٹرانسپورٹ سسٹمز انسانی ڈرائیونگ رویوں کو ختم کر کے سڑکوں کی کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں، کیونکہ غیر مناسب لین ڈسپلن اور بار بار لین تبدیل کرنا ٹریفک کی روانی متاثر کرتا ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدح کا کہنا ہے کہ دبئی جیسے تیزی سے پھیلتے شہر میں منصوبہ بندی کے ابتدائی مرحلے میں ہی ٹرانسپورٹ سسٹمز کو شامل کرنا مستقبل میں ٹریفک مسائل سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے، اور یہی حکمتِ عملی آنے والے برسوں میں شہر کے مصروف علاقوں میں ٹریفک کے بہاؤ کو ہموار بنا سکتی ہے۔






