متحدہ عرب امارات

سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی کی وجہ کیا بنی؟

خلیج اردو
کئی ماہ کی تیزی کے بعد سونے کی قیمتوں میں جنوری کے آخری دنوں میں اچانک بڑی کمی دیکھنے میں آئی، ایک ہی دن میں قیمت 10 فیصد سے زیادہ گر گئی، جسے بلوم برگ نے 1980 کی دہائی کے بعد سب سے بڑی انٹرا ڈے گراوٹ قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق سونا حالیہ دنوں میں 5 ہزار 600 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ چکا تھا اور متعدد تجزیہ کاروں کے اندازوں سے بھی اوپر جا رہا تھا، تاہم تیزی کے بعد منافع خوری نے مارکیٹ کا رخ موڑ دیا۔

ٹیکنیکل اسٹریٹجسٹ کیٹی اسٹاکٹن کے مطابق، “یہ ایک ڈرامائی ریورسل تھا، تاہم یہ طویل المدتی مندی نہیں بلکہ قلیل مدت کی اصلاح کا آغاز ہو سکتا ہے۔”

گزشتہ سال 2025 میں سونے کی قیمت 65 فیصد بڑھی، جو تقریباً پچاس برس کی بہترین سالانہ کارکردگی تھی، اور عالمی غیر یقینی صورتحال میں سونا بدستور محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیائی کشیدگی، معاشی پالیسیوں میں غیر یقینی، تجارتی جنگوں کے خدشات، کمزور ڈالر اور امریکا سمیت مختلف ممالک میں بڑھتے مالی خسارے نے سونے کی قیمت کو سہارا دیا۔

سونے کی حالیہ گراوٹ کا آغاز اس خبر کے بعد ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کے آئندہ چیئرمین کے طور پر نامزد کیا، جس سے فیڈ کی خودمختاری سے متعلق خدشات کم ہوئے۔

ایچ ایس بی سی کے ماہر جم اسٹیل کے مطابق، “یہ کمی بڑی حد تک منافع خوری اور غیر یقینی صورتحال میں کمی کا نتیجہ ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں متوقع کمی کم ہوئی تو ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے، جو سونے کے لیے منفی ثابت ہوگا۔

ٹیکنیکل تجزیے کے مطابق سونے کو 50 روزہ موونگ ایوریج کے قریب سہارا مل سکتا ہے، جبکہ مزید کمزوری کی صورت میں 4 ہزار ڈالر سے نیچے کی سطحیں بھی اہم ہوں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل خریداری سونے کے لیے مضبوط سہارا بنی ہوئی ہے، تاہم حالیہ تیزی کے بعد یہ اصلاح مارکیٹ کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button