متحدہ عرب امارات

رمضان المبارک میں عوامی ہمدردی سے فائدہ اٹھانے کیلئے منظم پیشہ ور بھکاری متحرک، دبئی پولیس نے شہریوں کو عطیات مستند فلاحی اداروں کے ذریعے دینے کی وارننگ جاری کر دی

خلیج اردو
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات میں خیرات کا رجحان بڑھ جاتا ہے، تاہم Dubai Police نے خبردار کیا ہے کہ اس مقدس مہینے میں منظم پیشہ ور بھکاری بھی عوام کی ہمدردی کا فائدہ اٹھانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق حال ہی میں ایک شخص کو پارکنگ ایریا سے گرفتار کیا گیا جس کے پاس سے 20 ہزار درہم نقد برآمد ہوئے۔ مشتبہ افراد اور جرائم سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر Ali Salem Al Shamsi کا کہنا ہے کہ ملزم ٹریفک سگنلز اور پارکنگ ایریاز میں لگژری گاڑیوں میں سوار افراد کو مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر رقم مانگتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ "بھکاری اکثر مساجد کے داخلی راستوں، اسپتالوں، کلینکس، مارکیٹس اور سڑکوں پر ہمدردی حاصل کرنے کیلئے دھوکہ دہی کے حربے استعمال کرتے ہیں”، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی اطلاع 901 کال سینٹر یا دبئی پولیس ایپ کے پولیس آئی فیچر کے ذریعے دیں اور عطیات صرف رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو دیں۔

انسدادِ گداگری مہم کے تحت 2021 سے 2025 کے دوران دبئی میں 1,801 بھکاریوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 2025 کے رمضان اور عیدالفطر کے دوران ہی 222 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس کے مطابق زیادہ تر گرفتار افراد مختصر مدتی ویزوں پر آنے والے غیر ملکی تھے، جو جعلی بیماری، معذوری یا مالی مشکلات کا ڈرامہ رچا کر لوگوں سے رقم بٹورتے تھے۔ بعض کیسز میں مصنوعی بازوؤں میں لاکھوں درہم چھپائے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض گروہ "تنخواہ دار بھکاریوں” کو ملک میں لا کر منظم انداز میں سڑکوں اور پارکنگ ایریاز میں تعینات کرتے ہیں، جو جعلی پٹیوں، میڈیکل نسخوں یا فیملی کے پھنس جانے جیسے بہانے بنا کر شہریوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

پولیس نے آن لائن گداگری میں اضافے سے بھی خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں متحدہ عرب امارات میں تقریباً 1200 ڈیجیٹل بھیک مانگنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر وفاقی قانون نمبر 34 آف 2021 کے تحت تین ماہ قید اور 10 ہزار درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق رمضان کی سخاوت کو مستحق افراد تک پہنچانے کیلئے عطیات مستند فلاحی اداروں کے ذریعے دینا ہی منظم فراڈ نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی کا مؤثر ذریعہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button