
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خطہ کئی ماہ سے بحران کی طرف بڑھ رہا تھا اور متحدہ عرب امارات اس صورتحال سے پہلے ہی آگاہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں ایران کی جانب سے کیے گئے ایک ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے جنگ شروع ہونے سے پہلے کئی ماہ تک سفارتی کوششیں کیں تاکہ کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق امارات نے خطے میں تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی بھی پیشکش کی تھی۔
انور قرقاش نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام ایران کی وزارتِ خارجہ تک پہنچایا تھا تاکہ مذاکرات کا راستہ کھولا جا سکے۔ تاہم جب مذاکرات ناکام ہوئے تو واضح ہو گیا کہ جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات ایران کا جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی، اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی پالیسیوں کو قرار دیا جا سکتا ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے عرب دنیا میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
انور قرقاش کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ ایران نے حملوں میں شہری اور فوجی اہداف میں فرق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ صرف غیر ملکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی طریقہ ہے کہ ایران ان ممالک کا بدلہ چکائے جنہوں نے جنگ کو روکنے کی کوشش کی، جیسے قطر اور عمان۔
انور قرقاش نے کہا کہ حملوں کے باوجود متحدہ عرب امارات کا کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام توقعات سے بڑھ کر مؤثر ثابت ہوا اور ملک میں روزمرہ زندگی جاری رہی۔ بندرگاہیں، کاروباری ادارے اور اسکول کام کرتے رہے جبکہ سیاحوں کو واپس بھیجنے کے لیے روزانہ پروازوں کی تعداد اڑتالیس سے بڑھا کر اسی کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں کے بعد دنیا بھر سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید کو چند دنوں میں دنیا بھر کے پینتالیس سے زائد وزرائے خارجہ کی فون کالز موصول ہوئیں جن میں ایران کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔
ان کے مطابق عالمی رہنماؤں نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے بھی رابطہ کیا کیونکہ دنیا کے کئی ممالک کے ہزاروں شہری اس ملک میں مقیم ہیں۔
ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے بارے میں انور قرقاش نے کہا کہ اعتماد ایک گلدان کی طرح ہوتا ہے جو ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے مگر دراڑیں باقی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ اعتماد بحال ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مستقبل کے مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کرنا ضروری ہو گا اور بنیادی مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے چاہئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اس میں سہولت کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
انور قرقاش نے خلیجی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان مزید مضبوط دفاعی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور مشترکہ خلیجی فوجی منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ کے ساتھ ساتھ افواہوں اور غلط معلومات کی ایک مہم بھی چل رہی ہے، اس لیے شہریوں کو صرف سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی اصل طاقت اس کی مضبوط معیشت، سماجی ہم آہنگی، کھلی اقتصادی پالیسی اور دور اندیش قیادت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی عوامل ملک کو ہر بحران سے زیادہ مضبوط بنا کر نکالتے ہیں۔







