عالمی خبریں

مسلم دنیا ایک اور عظیم رہنما سے محروم ہوگئی، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی بیٹے سمیت شہید ہو گئے

خلیج اردو
صدر مسعود پزشکیان نے تصدیق کی کہ علی لاریجانی اور ان کے بیٹے علی باطینی، نیز کمانڈر غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے ہیں۔ نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی، عرب میڈیا کے مطابق حملہ سیف ہاؤس پر کیا گیا تھا۔

ایرانی صدر نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید علی لاریجانی ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جن کی خدمات خطے میں امن و سلامتی کے لیے نہایت اہم تھیں۔ صدر نے مزید کہا کہ قوم ایک مخلص رہنما سے محروم ہو گئی، اور ان کی خدمات ایرانی سیاست اور قومی استحکام کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

چند دن قبل علی لاریجانی نے ایک پوسٹ میں کہا تھا، “میں موت کو خوشی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو غم کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔” یہ کلمات ان کے عزم اور شہادت کے جذبے کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

علی لاریجانی سینئر ایرانی سیاستدان اور بااثر قدامت پسند رہنما تھے، جو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اہم پالیسی سازوں میں شمار ہوتے تھے۔

لاریجانی شہید آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی تھے اور انہوں نے ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کے طور پر یورپی طاقتوں کے ساتھ حساس جوہری مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ خطے اور مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی توازن کی پالیسی کے حامی بھی تھے۔

علی لاریجانی نے تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے تعلیم حاصل کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کے حامل تھے، جو ان کے علمی اور نظریاتی پس منظر کو واضح کرتا ہے۔

وہ 2008 سے 2020 تک ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر بھی رہے اور اپنے دور میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہم سیاسی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button