
خلیج اردو
بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کی "ناکام اور منافقانہ” خارجہ پالیسی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، جہاں راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایک "کمپرومائزڈ” لیڈر قرار دے دیا ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی بھارت کے قومی مفاد کے بجائے صرف وہی کر رہے ہیں جو امریکی صدر اور اسرائیل انہیں کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
راہول گاندھی نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کا وزیراعظم بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت کی خود مختاری خطرے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی پالیسیاں بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک کے بجائے غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
بھارتی کانگریس کا کڑا سوال: "پاکستان میز پر ہے تو بھارت کہاں ہے؟” انڈین نیشنل کانگریس کی ترجمان سپریا شری ناتھ نے بھی مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس نے نئی دہلی کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے کہا:
-
ثالثی کا کردار: "اگر علاقائی تنازعات اور جنگ بندی میں پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے، تو بھارت اس فہرست سے غائب کیوں ہے؟”
-
عالمی میز پر خالی کرسی: سپریا نے سوال کیا کہ دنیا کے بہتر مستقبل کے لیے جب مصر، ترکیہ اور پاکستان جیسے اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں، تو وہاں بھارت کی کرسی کہاں ہے؟
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ مودی کی خارجہ پالیسی کی بدترین ناکامی ہے کہ بھارت جیسا بڑا ملک عالمی فیصلوں میں تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مودی کی "خوشامدانہ پالیسی” نے بھارت کا وقار خاک میں ملا دیا ہے اور آج بھارت عالمی سفارت کاری کے بجائے صرف امریکی اور اسرائیلی اشاروں پر چلنے والی ایک ‘کٹھ پتلی’ بن کر رہ گیا ہے۔







