
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی معیشت پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر G7 ممالک کے وزراء آج اہم اجلاس کریں گے، جس میں توانائی اور مالیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
فرانسیسی وزیر خزانہ Roland Lescure کے مطابق اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے ہوگا، جس میں توانائی و خزانہ کے وزراء، مرکزی بینکوں کے سربراہان اور عالمی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی ردعمل کے نتیجے میں تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر خلیج میں ترسیل رکنے سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
توانائی بحران کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ایشیائی ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر دکھائی دے رہے ہیں۔
جی سیون ممالک اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی پر زور دے چکے ہیں، اسے عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
ادھر مختلف ممالک بڑھتی قیمتوں اور سپلائی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے دورانیے اور مقاصد میں غیر یقینی صورتحال نے پالیسی سازی کو مشکل بنا دیا ہے۔
تجزیہ: عالمی طاقتیں اب جنگ کے براہ راست اثرات سے زیادہ اس کے معاشی جھٹکوں کو سنبھالنے پر توجہ دے رہی ہیں، جو عالمی استحکام کیلئے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔







