
خلیج اردو
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کیا گیا، کمیشن کے 9 ارکان نے تبادلے کے حق میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے تبادلوں پر بھی غور کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے ججز کے تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ “گزشتہ چار سالوں میں اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، ایسے فیصلوں سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔”
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ابتدا میں ٹرانسفر ججز سے متعلق اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی، تاہم جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے پانچ ارکان کی ریکوزیشن پر اجلاس طلب کیا گیا۔
اس سے قبل ججز کے تبادلے کے معاملے پر جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی بھی تبادلے سے قبل انہیں ذاتی طور پر سنا جائے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عدالتی تقرریوں اور تبادلوں کا معاملہ ایک بار پھر قانونی اور سیاسی سطح پر بحث کا مرکز بن چکا ہے۔







