عالمی خبریں

امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے 14 نکاتی امن منصوبے پر ردعمل تہران بھجوا دیا، جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام پر غور شروع

خلیج اردو
امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے 14 نکاتی منصوبے پر اپنا ردعمل تہران تک پہنچا دیا ہے، جس کی تصدیق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کی ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران کو امریکی جواب پاکستان کے ذریعے موصول ہوا ہے، جس کا تہران میں تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، اور مکمل غور و فکر کے بعد ایران اپنا باضابطہ مؤقف دے گا۔

رپورٹس کے مطابق یہ 14 نکاتی منصوبہ جنگ کے خاتمے، مکمل جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ جوہری معاملات کو جان بوجھ کر اس فریم ورک سے الگ رکھا گیا ہے، اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست جوہری مذاکرات جاری نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی تجویز تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی، عدم جارحیت معاہدہ، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں میں نرمی اور سمندری بارودی سرنگوں کے معاملے کو ایران کے کنٹرول میں دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ایران محدود سطح یعنی 3.6 فیصد تک یورینیم افزودگی بحال کرے گا، جبکہ امریکا اور اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے روکنے کے پابند ہوں گے، اس کے ساتھ منجمد ایرانی اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی اور پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔

تیسرے مرحلے میں ایران نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی نظام اور اسٹریٹجک مکالمے کی تجویز دے کر خطے میں طویل المدتی امن کا خاکہ پیش کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور سفارتی پیش رفت کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button