
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے اور ایران کے معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جا چکا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
انقرہ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانیوں کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتے، ان کے بقول ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو سربراہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے جن میں ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بات ہوئی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے پر ان کا ساتھ نہیں دیا، جبکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے یورپ سے پانچ ہزار طیاروں نے پروازیں کیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے جہازوں پر حملے کیے، اسی لیے گزشتہ رات ایران پر حملہ کیا گیا، تاہم امریکا اب بھی ایران کے ساتھ ڈیل چاہتا ہے۔
امریکی صدر نے اسپین کو نیٹو کا "خوفناک شراکت دار” قرار دیتے ہوئے اسپین کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران پر نئی امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔







