متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے، انور قرقاش کا ایران پر سخت تنقید

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحرین و کویت پر ایرانی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب بھی جنگ کا باب بند کرنے اور کشیدگی کم کرنے میں ناکام ہے۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آبنائے ہرمز میں قطری اور سعودی تجارتی جہازوں پر حملے، ساتھ ہی بحرین اور کویت کے خلاف بار بار کی جارحیت، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تہران اب بھی کشیدگی میں کمی اور امن کی راہ اختیار کرنے کے تقاضے پورے نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ایران کی جانب سے کشیدگی اور امن کے درمیان مسلسل اتار چڑھاؤ کا نشانہ نہیں بن سکتے، اس صورتحال کے مقابلے کے لیے متحد اور مضبوط خلیجی ردعمل ضروری ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں۔ متاثرہ جہازوں میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار ایم/ٹی الریکیات، سعودی پرچم بردار ایم/ٹی ویدیان اور لائبیریا کے پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پروسپیرٹی شامل ہیں۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم میزائل نے نشانہ بنایا جس سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ بعد ازاں مزید دو جہاز بھی حملوں کی زد میں آئے، جن میں سے کم از کم ایک پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

قطر نے اپنے تجارتی جہاز پر حملے کو بین الاقوامی بحری آمدورفت پر ناقابل قبول حملہ قرار دیتے ہوئے ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا، تاہم ایران نے قطری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

ان حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں میں عالمی توانائی کی سپلائی اور امریکا۔ایران جنگ بندی معاہدے کے مستقبل سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button