
ابوظہبی: ابوظہبی میں مقیم سربیائی فزیکل ٹریننگ کوچ ویلجکو ووکیچیویچ نے ایک منفرد اور حیران کن کارنامہ انجام دیتے ہوئے صرف ایک عمارت کی سیڑھیوں پر چڑھ کر دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر 8,848 میٹر بلندی طے کر لی۔
ویلجکو نے یہ چیلنج ابوظہبی کے ریم آئی لینڈ میں ایک رہائشی عمارت کی سیڑھیوں میں مکمل کیا۔ انہوں نے تقریباً 16 گھنٹوں کے دوران 54 ہزار سیڑھیاں چڑھیں اور 49ویں منزل تک 59 مرتبہ پہنچے، جس سے مجموعی طور پر ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی کے برابر عمودی فاصلہ طے ہوا۔
کوچ کے مطابق اس چیلنج کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی مقامات کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اصل رکاوٹ انسان کی ذہنی حدود ہوتی ہیں۔
ویلجکو نے بتایا کہ وہ کسی خوبصورت قدرتی منظر یا پہاڑی راستے پر نہیں جانا چاہتے تھے بلکہ ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں انہیں مکمل طور پر اپنی ذہنی طاقت پر انحصار کرنا پڑے۔
چیلنج کے دوران وہ ہر مرتبہ 49ویں منزل تک سیڑھیاں چڑھتے اور پھر لفٹ کے ذریعے نیچے آ کر دوبارہ آغاز کرتے۔ وقفوں میں صرف پانی، کھجوریں، کیلے، بادام اور اخروٹ استعمال کرتے تھے تاکہ توانائی برقرار رہے۔ اس دوران انہوں نے اندازاً 7,000 کیلوریز بھی جلائیں۔
ویلجکو، جو ابوظہبی پولیس کالج میں فزیکل ٹریننگ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے بتایا کہ اس مہم کی تیاری میں تقریباً ایک سال لگا۔ انہوں نے سائیکلنگ، پہاڑی راستوں پر پیدل چلنے، طاقت بڑھانے والی ورزشوں اور ہفتہ وار سیڑھیاں چڑھنے کی مشق کے ذریعے خود کو تیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی طاقت تیزی سے چڑھنا نہیں بلکہ ہر بار جلد بحال ہو کر تقریباً اسی شدت کے ساتھ دوبارہ چڑھائی شروع کرنا تھی۔
ویلجکو کے مطابق اصل جنگ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی تھی۔
انہوں نے کہا، "انسانی جسم ہماری سوچ سے کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ سیڑھیاں یا تھکن نہیں تھی بلکہ میرے ذہن کی وہ آواز تھی جو کہتی تھی کہ اب کافی ہو چکا ہے۔”
چیلنج کے آخری مراحل میں مسلسل ایک جیسے ماحول نے مشکل کو مزید بڑھا دیا۔ ان کے مطابق ہر طرف ایک ہی دیواریں، ایک ہی سیڑھیاں اور ایک ہی راہداریاں تھیں، لیکن یہی اس آزمائش کا اصل مقصد بھی تھا۔
اس پورے سفر میں ان کے ساتھی سرجان اوستویچ نے لاجسٹک معاونت فراہم کی، دل کی دھڑکن کی نگرانی کی، خوراک اور پانی کا انتظام کیا اور ہر چڑھائی کا ریکارڈ رکھا۔
ویلجکو نے کہا کہ اس کامیابی کا مقصد کوئی ریکارڈ بنانا نہیں تھا بلکہ لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک "ایورسٹ” موجود ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی حدود سے باہر نکلنے کا پہلا قدم اٹھا لے تو بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر میری یہ کوشش صرف ایک شخص کو بھی یہ یقین دلا دے کہ وہ اپنی سوچ سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ کسی بھی کھیل کے نتیجے سے کہیں بڑی کامیابی ہوگی۔”







