عالمی خبریں

’The Odyssey‘ میں میٹ ڈیمن کی اسٹنٹ ڈبل بننے والی خاتون کی کہانی، بازوؤں نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی

خلیج اردو

ہالی ووڈ اداکار میٹ ڈیمن کی نئی فلم ’The Odyssey‘ میں ان کی اسٹنٹ ڈبل کے طور پر کام کرنے والی کینیڈین پرفارمر ڈیون ڈالٹن اچانک عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

فلم میں ڈیون ڈالٹن نے میٹ ڈیمن کے کردار اوڈیسیئس کے بعض ایکشن مناظر میں ان کی جگہ پرفارم کیا۔ خاص طور پر انسان خور Laestrygonians کے خلاف جنگ کے مناظر میں ان کی اسٹنٹ پرفارمنس شامل ہے۔

میٹ ڈیمن نے ایک پوڈکاسٹ میں ڈیون ڈالٹن کی تعریف کرتے ہوئے ان کے بازوؤں کو اپنے دیکھے ہوئے بہترین بازو قرار دیا۔ اس تبصرے کے بعد ڈیون ڈالٹن کے بائسپس کی تصاویر اور ان کی پرفارمنس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔

ڈیون ڈالٹن نے بتایا کہ انہیں میٹ ڈیمن کے تبصرے کا علم اس وقت ہوا جب وہ نیوزی لینڈ میں فلم بندی کے دوران سو رہی تھیں۔ رات گئے فون پر مسلسل پیغامات آنے کے بعد انہیں لگا کہ شاید کوئی مسئلہ پیش آگیا ہے لیکن جاگنے پر معلوم ہوا کہ ان کے بازو عالمی سطح پر وائرل ہوچکے ہیں۔

ڈیون ڈالٹن کا قد تقریباً 4 فٹ 6 انچ ہے جبکہ میٹ ڈیمن کا قد تقریباً 5 فٹ 10 انچ ہے۔ فلم میں اس فرق کو ختم کرنے کے لیے انتہائی قد آور اداکاروں کو Laestrygonians جبکہ ڈیون ڈالٹن جیسے کم قد والے پرفارمرز کو اوڈیسیئس اور اس کے ساتھیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

ڈیون ڈالٹن نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ اسکاٹ لینڈ میں ہوئی اور یونانی جنگجو کا کردار ادا کرنا ان کے لیے ناقابل فراموش تجربہ تھا۔ ان کے مطابق فلم کی پروڈکشن انتہائی بڑے پیمانے پر ہوئی اور ہر شعبے میں بہترین پیشہ ور افراد کام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے جسمانی طور پر تیار رہنا، ذہنی طور پر چوکنا رہنا اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنا ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات پیچیدہ ایکشن کوریوگرافی سیکھنے اور کیمرے کے سامنے پرفارم کرنے کے لیے بہت کم وقت ملتا تھا۔

ڈیون ڈالٹن نے بتایا کہ وہ نو سال کی عمر سے پروفیشنل پرفارمنس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈانس اور تھیٹر سے کیا اور بعد میں فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبے میں موشن کیپچر، کریچر پرفارمنس، وائس ورک اور اسٹنٹس سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا۔

ان کے مطابق وہ خود کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ ان کے لیے یہ سب کہانی سنانے کے مختلف انداز ہیں۔

خواتین کے مرد اداکاروں کی اسٹنٹ ڈبل بننے کے حوالے سے ڈیون ڈالٹن نے کہا کہ یہ اب بھی نسبتاً کم عام ہے تاہم جب کوئی خاتون پرفارمر جسمانی اور تکنیکی اعتبار سے کردار کے لیے بہترین انتخاب ہو تو ایسا ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں انڈسٹری میں صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے اور پروڈکشنز اب صلاحیت اور کام کے جذبے کو زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔

ڈیون ڈالٹن کے مطابق انہیں اپنے قد کی وجہ سے بھی کئی مرتبہ کم سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ انہیں دیکھ کر پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں، لیکن جب وہ کام شروع کرتی ہیں تو ان کی پرفارمنس خود بولتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن چیزوں کو کبھی ان کی کمزوری سمجھا گیا وہی بعد میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن گئیں۔

ڈیون ڈالٹن مستقبل میں ایسے مرکزی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں جن میں اداکاری، موشن کیپچر، کریچر پرفارمنس، جسمانی پرفارمنس اور وائس ورک سمیت ان کی تمام صلاحیتیں استعمال ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ناظرین حقیقی اور مستند کرداروں سے زیادہ جڑتے ہیں اور حقیقی دنیا میں لوگ مختلف قد و قامت اور شکل و صورت کے ہوتے ہیں، اس لیے کہانیوں میں بھی یہ تنوع نظر آنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button