
خلیج اردو
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں، اماراتی حکام کے مطابق پرواز کے دوران شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر دہشتگرد کارروائی کی کوشش کرتے ہوئے کپتان سمت مچھر پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم کپتان، عملے اور مسافروں کی بروقت کارروائی کے باعث طیارے کو محفوظ طریقے سے سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا۔
خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے 3 اکتوبر کو تصدیق کی کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شریک پائلٹ نے دوران پرواز دہشتگرد کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ تحقیقات کے مطابق شریک پائلٹ نے طیارے کے کاک پٹ میں کپتان پر طیارے کی ہنگامی صورت حال میں استعمال ہونے والی کلہاڑی سے حملہ کیا اور پرواز کے کنٹرولز پر قابو پانے کی کوشش کی۔
کپتان سمت مچھر نے واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں سر کے پچھلے حصے پر اچانک شدید ضرب محسوس ہوئی تو ابتدائی طور پر انہیں لگا کہ طیارے کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ تاہم مسلسل ضربیں لگنے پر انہیں اندازہ ہوا کہ خطرہ طیارے کے اندر موجود دوسرے شخص کی جانب سے ہے۔
کپتان کے مطابق حملہ روکنے کی کوشش کے دوران ان کی بینائی تیزی سے متاثر ہونے لگی اور طیارہ تیزی سے نیچے کی جانب جھک گیا۔ انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا لیکن حملہ آور نے اسے دوبارہ بند کردیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود کپتان دوبارہ دروازے تک پہنچے، اسے کھولا اور اس موقع پر عملے کے دیگر ارکان کاک پٹ میں داخل ہوگئے، جنہوں نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔
دوسری جانب طیارے میں موجود مسافروں کے لیے صورتحال انتہائی خوفناک تھی۔ اچانک طیارہ نیچے کی جانب گرنے لگا اور معمولی طور پر گھومنے کی کیفیت بھی پیدا ہوئی، جس کے باعث مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ بچوں کے چیخنے اور مسافروں کے گھبرا جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایک مسافر کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں محسوس ہوا کہ طیارہ کسی فضائی جھٹکے کی زد میں آیا ہے، تاہم جب طیارہ مسلسل نیچے جانے لگا تو انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔
کاک پٹ کا دروازہ کھلنے کے بعد بعض مسافر بھی آگے بڑھے اور عملے کے ارکان کے ساتھ مل کر شریک پائلٹ کو قابو کرلیا۔ گواہوں کے مطابق اسے پہلے ہیڈ فون کی تار سے باندھا گیا جبکہ بعد میں پلاسٹک کی زِپ ٹائیز کے ذریعے اسے مزید مضبوطی سے قابو میں کیا گیا۔ اسی دوران دیگر افراد نے شدید زخمی کپتان کی مدد کی۔
شریک پائلٹ کو قابو کرنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج طیارے کو محفوظ مقام پر اتارنا تھا۔ فلائی دبئی کے مطابق پرواز میں موجود ڈیوٹی پر مامور عملے کے ارکان نے صورتحال سنبھالی، طیارے کو محفوظ کیا اور اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا، جہاں طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ ایئرلائن نے اس پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی جس نے طیارے کو بحفاظت زمین پر اتارا۔
فلائی دبئی کے چیف ایگزیکٹو غیث الغیث نے طیارے کو محفوظ طریقے سے اتارنے والے پائلٹس، زخمی کپتان، کیبن عملے اور مسافروں کی بہادری اور بروقت کارروائی کو سراہا۔ متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی کپتان، عملے اور مسافروں کے فوری اور فیصلہ کن ردعمل کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائی سے صورتحال پر قابو پانے اور بڑے نقصان سے بچنے میں مدد ملی۔
اماراتی حکام کے مطابق تحقیقات میں اب حملے کے مکمل محرکات، اس کے پس پردہ عوامل اور ممکنہ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے سے متعلق جسمانی اور ڈیجیٹل شواہد کا تکنیکی تجزیہ بھی جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام ضروری قانونی اور تحقیقاتی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد واقعے کی حتمی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔







