متحدہ عرب امارات

دبئی میں موسم گرما کے دوران شہریوں کو اکثر دن میں دو بالکل مختلف ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے

خلیج اردو
دبئی میں موسم گرما کے دوران شہریوں کو اکثر دن میں دو بالکل مختلف ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک طرف دفاتر، شاپنگ مالز اور گاڑیوں میں شدید ٹھنڈک اور دوسری جانب باہر نکلتے ہی تیز گرمی اور زیادہ نمی۔ ماہرین صحت کے مطابق جسم درجہ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم بار بار شدید گرمی سے ٹھنڈے ماحول میں جانے اور واپس آنے سے جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کے نظام اور جلد کی حفاظتی تہہ پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

فیملی میڈیسن کنسلٹنٹ ڈاکٹر نگین حکیم کے مطابق شدید گرمی میں جلد کے قریب موجود خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں تاکہ جسم اضافی حرارت خارج کرسکے، دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور جسم پسینہ پیدا کرکے خود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دبئی میں نمی زیادہ ہونے کے باعث پسینہ آسانی سے بخارات میں تبدیل نہیں ہوتا، جس سے جسم کا قدرتی ٹھنڈا ہونے کا عمل کم مؤثر ہوجاتا ہے۔

جب یہی شخص دوبارہ شدید ایئر کنڈیشننگ والے ماحول میں داخل ہوتا ہے تو جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے، تاہم ٹھنڈی اور خشک ہوا آنکھوں، ناک، گلے اور سانس کی نالیوں میں جلن پیدا کرسکتی ہے۔ دمہ، الرجی یا سائنَس کے مسائل میں مبتلا افراد میں یہ علامات زیادہ نمایاں ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر نگین حکیم نے واضح کیا کہ گرم ماحول سے اچانک ٹھنڈے ماحول میں جانے سے براہ راست نزلہ یا فلو نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بیماریاں درجہ حرارت میں تبدیلی کے بجائے وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

تاہم بار بار درجہ حرارت تبدیل ہونے سے بعض افراد کو سر درد، تھکن، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور چکر آنے کی شکایت ہوسکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب جسم میں پانی کی کمی ہو یا مناسب غذا نہ لی گئی ہو۔ شدید گرمی میں خون کی نالیاں پھیلنے کے ساتھ پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات بھی خارج ہوتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر کم ہوسکتا ہے اور چکر آنے کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اندرون اور بیرونِ عمارت درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق آنکھوں اور گلے میں خشکی، ناک بند ہونے، ناک بہنے اور تھکن جیسی علامات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

درجہ حرارت کی مسلسل تبدیلی کا اثر جلد پر بھی پڑتا ہے۔ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ماریزیو ویل کے مطابق دبئی میں گرمی کے موسم کو یوں سمجھا جاسکتا ہے جیسے ایک ہی دن میں دو مختلف موسم موجود ہوں۔ باہر شدید گرمی میں پسینہ اور جلد میں تیل کی پیداوار بڑھ جاتی ہے، جبکہ اندر ایئر کنڈیشننگ ہوا سے نمی کم کردیتی ہے، جس سے جلد کی سطح سے پانی تیزی سے خارج ہونے لگتا ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں جلد بیک وقت چکنی بھی ہوسکتی ہے اور پانی کی کمی کا شکار بھی۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد اس کیفیت سے نمٹنے کے لیے سخت کلینزرز اور تیز اثر رکھنے والے ایسڈز کا زیادہ استعمال شروع کردیتے ہیں، جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے اور تیل کی پیداوار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

گرمیوں میں بعض افراد کو نہانے کے بعد جلد میں کھنچاؤ، ناک اور منہ کے گرد خشکی، سرخی، دانے، ہیٹ ریش، چہرے پر سوجن اور میک اپ کے جلد پر ٹھیک طرح نہ بیٹھنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر ایسی علامات عارضی ہوتی ہیں اور مناسب پانی پینے، نرم جلدی مصنوعات استعمال کرنے اور بہتر نگہداشت کے ذریعے چند ہفتوں میں کم ہوسکتی ہیں۔

البتہ سورج اور گرمی میں مسلسل رہنے کے طویل مدتی اثرات زیادہ اہم ہیں۔ الٹرا وائلٹ شعاعیں اور شدید گرمی جلد پر رنگت کے مسائل، کولیجن کو نقصان، باریک جھریوں اور جلد کی مضبوطی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ جن افراد کو میلازما یا جلد پر سوزش کے بعد سیاہ دھبوں کی شکایت ہوتی ہے، ان میں گرم مہینوں کے دوران یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔

ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنر کا درجہ حرارت انتہائی کم رکھنے کے بجائے معتدل رکھا جائے، براہ راست اے سی کی ہوا کے نیچے بیٹھنے سے گریز کیا جائے اور دن بھر باقاعدگی سے پانی پیا جائے، حتیٰ کہ گھر یا دفتر کے اندر موجودگی کے دوران بھی۔

آسٹَر کلینک جے ایل ٹی کی اسپیشلسٹ انٹرنل میڈیسن ڈاکٹر سومایہ شمسی کے مطابق درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی کا اثر عمر رسیدہ افراد، حاملہ خواتین، ذیابیطس کے مریضوں اور دل کے امراض میں مبتلا افراد پر زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔ شدید گرمی میں خون کی نالیاں پھیلنے، دل کی دھڑکن بڑھنے اور بلڈ پریشر میں معمولی کمی کے بعد اچانک ٹھنڈے ماحول میں داخل ہونے سے جسم میں اس کے برعکس تبدیلیاں آتی ہیں، جو پہلے سے دل کے مسائل رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ مشکل ہوسکتی ہیں۔

باہر نکلتے وقت ماہرین کا مشورہ ہے کہ جسم کو ماحول کے مطابق ڈھلنے کا کچھ وقت دیا جائے، فوراً سخت جسمانی سرگرمی شروع نہ کی جائے اور ممکن ہو تو دن کے شدید گرم اوقات میں باہر رہنے کا دورانیہ محدود رکھا جائے۔ ٹوپی، دھوپ کا چشمہ، سایہ اور ایس پی ایف 50 کی براڈ اسپیکٹرم سن اسکرین استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ باہر رہنے کی صورت میں سن اسکرین ہر دو گھنٹے بعد دوبارہ لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

جلد کی حفاظت کے لیے ماہرین نرم کلینزر، موئسچرائزر اور سیرامائڈز یا نایاسینامائڈ جیسے جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط بنانے والے اجزا پر مشتمل مصنوعات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں طاقتور ایسڈز اور ریٹینوئڈز کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز جبکہ زیادہ ایئر کنڈیشننگ والے کمروں میں ہیومیڈیفائر کا استعمال بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل چکر آنا، غیر معمولی تھکن، سانس میں سیٹی کی آواز، مسلسل کھانسی یا سانس لینے میں دشواری کو محض گرمی کی تھکن سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ شدید گرمی کے بعد سر درد، متلی، بہت زیادہ پسینہ آنا، شدید کمزوری یا پیشاب کی مقدار کم ہونا جسم میں پانی کی کمی یا ہیٹ ایکزاسشن کی علامات ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button