خلیج اردو آن لائن:
ابوظہبی میں پیر کے روز ایک ہوٹل میں ہونے والے گیس دھماکے کے باعث دو فلپائینی باشندے جاں بحق ہوئے تھے۔ ان دو باشندوں میں سے ایک کے خاندان کے فرد نے نجی خبررساں ادارے گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ویزے کی تجدید ے پہلے اپنا میڈٰیکل چیک اپ کروانے کے لیے جا رہی تھا۔
جاں بحق ہونے والے کلارک گیسس کی بیوی ایلنا ویلسن نے بتایا کہ”میرا شوہر شاز نازر ہی گھر سے نکلتا تھا کیونکہ وہ گھر سے ہی دفتر کا کام کرتا تھا۔ اس دن اس نے مجھے صبح 8 بجے میرے دفتر چھوڑا۔ جس کے بعد وہ اپنے دفتر سے کچھ کاغذات لینے چلا گیا اور پھر میڈیکل چیک اپ کے لیے چلا گیا۔
تقریبا ساڑھے دس بجے کے قریب ہمارے دفتر کے چیٹ گروپ میں دھماکے کے حوالے سے خبریں آنے لگیں۔ میں فوری طور پر اپنے شوہر کو میسج کیا کیونکہ ہم راشد بن راشید روڈ کے قریب ہی ایک عمارت میں رہتے ہیں۔ جب مجھے جواب نہ ملا تو میں اس کے نمبر پر فون کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے فون بند تھا۔ میں اسےمزید چار بار فون کیا لیکن اس کا نمبر بند جار رہا تھا۔
ایک بجے دوپہر کے کھانے کے وقت میں نے کلینک جانے کا فیصلہ کیا تاکہ دیکھ سکوں کے میرا شوہر وہاں ہے یا نہیں۔ میرے پاس کیش نہیں تھا لہذا میں نے دوست سے ٹیکسی کے کرائے کے لیے 50 درہم ادھار لیے ۔ میں بہت پریشان تھی اور میرا خوف بڑھ رہا تھا”۔

ایلنا نے بتایا کہ اس نے اپنے شوہر کے دفتر فون کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس کا شوہر واپس نہیں آیا۔ تب اس نے دھماکے کی جگہ پر جانے کا سوچا تاکہ دور سے دیکھ سکے کہ اس کے شوہر کی گاڑی وہاں کھڑی ہے یا نہیں۔
ایلنا نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ” مجھے قریب جانے کا رستہ مل گیا، قریب پہنچ کر میں دیکھا کے میرے شوہر گاڑی خالی تھی۔ اور اس میں کچھ بریڈ اور پانی کی آدھی بوتل اور کچھ کاغذات پڑے ہوئے تھے”۔
ایلنا نے بتایا کہ اس کا خوف سچ ہوگیا۔ "میرے دوستوں نے میرے لیے رات کا کھانا بنایا کیوںکہ میں دن بھر کچھ نہیں کھایا تھا۔ اور میرے دوستوں نے مجھے دل توڑ دینے والی خبر سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں میرا شوہر بھی شامل ہے۔ اس دن مجھے فلپائنی سفارت خانے سے فون بھی آیا۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کے وہ مجھے تمام ضروری مدد فراہم کریں گے”۔
ایلنا نے مزید بتایا کہ وہ ابھی بھی یقین نہیں کر رہی کہ اس کا شوہر جا چکا ہے۔
ایلنا نے کلارک کی شخصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ”وہ ایک پیار کرنے والا شوہر اور باپ تھا۔ اگر کام میں مصروف بھی ہوتا تھا تو پھر بھی وقت نکال کر کھانا بناتا اور گھر کے دوسرے کام کر دیتا تھا۔ اور دن بھر کے کام کے بعد شام کو بچوں کو بھی وقت دیتا تھا”۔ خیال رہے کہ کلارک نے سوگواروں میں پانچ سالہ بیٹی اور چار سالہ بیٹا بھی چھوڑا ہے۔

ایلنا اور کلارک 2008 میں دوست بنے اور دونوں کا تعلق جنوبی فلپائن کے سورگاؤ نامی صوبے سے تھا۔
2013 میں کلارک کام کے لیے یو اے ای آگیا۔ اور ایلنا بھی اس کے پیچھے یو اے ای آگئی۔ دونوں نے 2014 میں شادی کی اور ان کے دو بچے پیدا ہوئے جو متحدہ عرب امارات میں ہی بڑے ہوئے۔
کلارک آٹوکیڈ ڈرافٹس مین کا کام کرتا تھا جبکہ ایلنا ایک انشورنس کمپنی میں کام کرتی ہے۔
ایلنا جو کے یو اے ای میں اپنے شوہر کے ویزے پر ہیں کہتی ہیں کہ دو بچوں کے ساتھ ” مستقبل اچانک تاریک لگنے لگا ہے”َ۔
ایلنا بتاتی ہیں کہ انہوں نے سورگاؤ میں اپنا گھر بنانا شروع کر دیا تھا۔ اب میرا شوہر تو چلا گیا ہے مجھے نہیں پتا کہ گھر کب مکمل ہوگا”۔ میرے بچوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ ان کے باپ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میری بیٹی مجھے روتا ہوا دیکھتی ہے تو کہتی کہ ماں پریشان مت ہو اور ہپستال جاؤ اور ڈیڈ کو گلے لگاؤ۔
ایلنا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے اپنی تمام تر ہمت اکٹھی کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے اس وقت سب اہم کام اپنے شوہر کی باقیات کو فلپائن لیجانا ہے۔
Source: Khaleej Times







