عالمی خبریں

اس رپورٹر کو نوکری سے نکال دو، ٹرمپ آپے سے باہر

خلیج اردو
06 ستمبر 2020
وائیٹ ہاؤس: امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ اس وقت غصے سے لال پیلے ہوئے جب فوکس نیوز نے ان سے منصوب ایک بیان پر مبنی رپورٹ شائع کی۔

مذکوروہ رپورٹ میں ٹرمپ پر الزام لگایا گیا تھا کہ جب وہ 2018 میں فرانس کے دورے پر تھے تو انہوں نے جنگ عظیم اول میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کو بزدل اور شکست خوردہ کہا تھا۔

اس وقت صدر ٹرمپ نے وہاں موجود امریکی فوجی قبرستان کا دورہ نہیں کیا تھا اور وجہ خراب موسم کو قرار دیا گیا تھا۔

اس تناظر میں فوکس نیوز کی دفاعی نمائندے جینفر گریفن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ نے فوجیوں کے قبرستان کا دورہ ملتوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بزدل ہیں اور ناکام ہیں اور جان بوجھ کر دورہ ملتوی کیا تھا جبکہ موسم کی خرابی وجہ نہیں تھی۔

رپورٹ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایک بار ویت نام جنگ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ پاگل پن تھی اور جس نے بھی یہ جنگی لڑی وہ احمق تھے۔

رپورٹ شائع ہونے کے بعد ٹرمپ نے یک طرفہ خبر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ رپورٹر نے ان کا موقف جاننے کیلئے رابطہ نہیں کیا۔ رپورٹر نے زحمت نہیں کی کہ وہ میری رائے جان لیتی۔

ٹرمپ نے خبر کو من گھڑت اور جھوٹی قرار دے کر خود کو بری الزمہ قرار دیا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے فوکس نیوز سے متعلہ رپورٹر کو ملازمت سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فوکس اٹلانٹک نے فرنٹ پیج پر خبر چھاپی تھی جس میں لکھا تھا کہ انہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگ عظیم اول میں جان دینے والوں کی ٹرمپ نے توہین کی ہے اور ان کے قبرستان کا دورہ ملتوی کیا۔

رپورٹر گریفن کی اس خبر پر وہ قائم ہے اور اس کے متعدد ساتھیوں نے ان کی حمایت میں ٹویٹ کیے ہیں۔

ٹرمپ کا میڈیا کے ساتھ رویہ ہمیشہ سے جارحانہ رہا ہے وہ متعدد میڈیا ہاؤسز کو فیک نیوز کے اڈے قرار دے کر کبھی انہیں ملک دشمن یا ملک دشمنوں کا آلہ کار قرار دیتے ہیں۔

ٹرمپ نے فیک نیوز کی اصطلاح بھی ایجاد کی ہے اور وہ اکثر نیوز بریفنگ میں رپورٹرز کے سوالات پر برہم ہوتے ہیں یا رپورٹر کی توہین بھی کرتے ہیں،۔

ٹرمپ اپنی سیکورٹی کی مدد سے رپورٹرز کو پریس کانفرنس سے باہر بھی نکالتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button