
خلیج اردو
07 ستمبر 2020
کابل: جن کے اردے پختہ ہوں وہ مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی اقدام سے پھیچے نہیں ہٹتے۔ انسان ایک بار جب مصمم ارادہ کر لیں تو انہیں کامیابی سے کوئی روک نہیں سکتا۔
افغانستان میں کوشش کی ایک منفراد داستان کی شروعات اس وقت ہوئی جب 28 سالہ لالے عثمانے کو ایک مشہور مصنف کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا۔ یہ دعوت نامہ اس بڑے اور مشہور لکھاری کی وفات پانے والی بیوی کی ایثال ثواب کیلئے ایک مذہبی تقریب کے حوالے سے تھا۔
دعوت نامہ پر عثمانے کا نام تو لکھا تھا لیکن لکھاری نے کہیں بھی وفات پاجانے والی خاتون کا نام یا کوئی اور ذکر نہیں کیا تھا۔
حیرات سے تعلق رکھنے والی عثمانے یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ ایک ترقی پسند شخص کی جانب سے موصول ہونے والے دعوت نامہ میں اس خاتون کا نام تک نہیں لکھا گیا جس کے اعزاز میں یہ تقریب رکھی گئی ہے۔
حیرات یونیورسٹی سے اسلامی قوانین میں گریجویشن کرنے والے طالبہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک مہم چلائی گی جو افغانستان میں صنفی امتیاز اور زن بیزار پرانے اور فرسودہ روایات پر سوال اٹھائے گی اور اس کے خلاف آواز بنے گی۔
ایک مردانہ معاشرہ جہاں عورت کا نام اس کی قبر یا اس کی شادی کے کارڈ میں بھی نہیں لکھا جاتا وہاں خطروں سے لڑنے والی اس باہمت خاتون نےسوشل میڈیا پر میرا نام کہاں ہے ؟ ( Whereismyname ( کے ہیش ٹیگ سے سوشل میڈیا کمپین شروع کی۔ جس کا مقصدتھا کہ شناخت کےان دستاویزات پر والد کے نام کے ساتھ والدہ کا بھی نام لکھا جائے اور خاص کر ان خواتین کا جو بیوہ ، طلاق شدہ ہوں یا پھر جن کے خاوند افغان جنگ میں لاپتہ ہوئے، ان کے بچوں کے شناختی کارڈ پر والدہ کا نام درج کرنے کیلئے آواز اٹھانا مہم کا مدعا تھا۔
عثمانے نے عرب نیوز کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر یہ ہیش ٹیگ وائرل ہوئی ۔ حمایت میں ٹویٹس کا طوفان امڈ آیا۔ مقامی اور عالمی سطح پر لوگ ہم آواز ہو گئے اور آخر کار ہماری کوششوں کا ثمر اس وقت ملا جب حکومت نے مردم شماری کے قوانین میں ترمیم کی تجویز قبول کی۔ حکومت نے مذہبی اسکالرز کے ساتھ کئی روز کے مباحثے کے بعد مجوزہ ترامیم مان لیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے حوصلہ افزائی سے بہت خوشی ہوئی اور آخرکار ہم نے ایک ایسے ترمیم کرانے میں کامیابی حاصل کی جو ہمارے مذہبی تعلیمات سے بالکل بھی متضاد نہیں۔ اور اب جلد ہی اسے پارلیمنٹ سے توثیق دی جائے گی۔
افغانستان کی روایات میں عورت کا نام لینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایک جوان آدمی کی ماں کا نام اگر کوئی کسی محفل میں لیتا ہے تو وہ لڑنے مرنے پر اتر آتا ہے۔ بہن یا ماں کا نام لینے پر لوگ غیرت کے نام پر قتل تک کرتے ہیں۔
افغانستان میں خواتین آبادی کا 49 فیصد ہونے کے باوجود خواتین کو مختلف شعبوں میں حصہ دینے سے محروم رکھا گیا تھا لیکن اب وقت بدل رہا ہے اور لوگ صنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
250 اراکین کے پارلیمنٹ میں 68 خواتین ہیں جن میں کچھ کے پاس وازاتیں بھی ہیں۔ ان خواتین نے محنت کرکے خود کو اپنے بچوں کی سرپرست منوایا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے 5 سالہ تاریک دور حکومت نے جہاں افغانستان کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلا تھا وہاں 2001 میں ان کی نام نہاد حکومت کے خاتمے کے بعد اب افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس حوالے سے انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے مختلف تنظیموں کو خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں۔
جہاں طالبان نے خواتین کے تعلیم پر پابندی لگائی تھی وہاں اب مختلف اداروں میں خواتین خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
لالے عثمانے کا کہنا ہے کہ عورتوں کے حقوق کیلئے یہ شروعات ہیں ابھی بہت آگے تک سفر کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ یہ مہم چلارہی تھی تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ بہت سے لوگوں نے اسے مہم ترک کرنے کا کہا۔
ماہرین کے مطابق عورتوں کے حقوق کیلئے مزکورہ مجوزہ ترمیم بہت بڑی کامیابی ہے اور اس کے دوررس نتائج ہوں گے۔







