خلیج اردو
30 ستمبر 2020
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے امریکی شہری سینتھیا رچی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کی درخواست خارج کر دی,عدالت نے جسٹس فار پیس کو معاملہ بھیجنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف رحمان ملک کی درخواست خارج کرتے ہوئے معاملہ جسٹس فار پیس کو بھیجنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے ۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ عوام کا چہرہ ہیں کھل کر بولیں کس کا ڈر ہے آپ کو؟جس پر نیاز اللہ نیازی نے کہامیں تو کہتا ہوں کہ مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
رحمان ملک کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سینتھیا رچی 2010 میں پاکستان آئی اور اب اسکا ویزہ بھی ختم ہو چکا ہے،یہ خطرناک مثال ہوگی کہ کوئی بھی اٹھ کر وزیراعظم یا چیف جسٹس سمیت کسی پر بھی الزام لگا دے،ایسا تو نہ ہو کہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جائیں.
جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی اعلی پولیس افسر آرڈر کرتا ہے تو شکایت کنندہ کے پاس کسی جگہ اپیل کا حق ہونا چاہیے،جو طریقہ کار ہونا چاہیے تھا اس پر عمل نہیں کیا گیا اس لیے معاملہ جسٹس فار پیس کے پاس گیا۔ آپ پولیس افسر سے پوچھ لیں شکایت اعلی پولیس افسر کے پاس نہیں گئی۔
لطیف کھوسہ بولے کہ صرف ایس ایچ او نے ہی نہیں ڈی ایس پی، ایس پی نے بھی کہا شکایت درست نہیں۔ ہائیکورٹ کے آرڈر کا کوئی جواز نہیں ہے۔
جسٹس قاضی امین نے سینتھیا کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں بتائیں کسی فرانزک کی ضرورت ہے؟ یہ بھی بتائیں دس سال بعد آپ کو کیوں خیال آیا؟ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد رحمان ملک کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔






