عالمی خبریں

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتیں 240 سے زائد

خلیج اردو – آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں جاری لڑائی میں مزید شدت آرہی ہے اور دونوں جانب سے بڑے شہروں میں ہونے والی شیلنگ کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔

خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق آرٹلری فائر سے بڑے شہروں کو نشانے بنانے پر عوام کے جانی نقصان کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں اب تک 240 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ آرمینیا کی فورسز نے اس کے تین اہم شہروں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ گزشتہ روز ملک کے دوسرے بڑے شہر گانجا پر شیلنگ کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ آرمینیا کے زیر تسلط آذربائیجان کے علاقے کاراباخ میں علیحدگی پسند فورسز اور آذربائیجان کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے تنازع جاری ہے، تاہم گزشتہ ہفتے شدید لڑائی کا آغاز ہوا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقائی دارالحکومت اسٹیپنکرٹ سے منسلک سرحد میں آرٹلری سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

نیگورنو-کاراباخ میں 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی سے خطے کے دو بڑے ممالک ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

آذربائیجان اور آرمینیا دونوں کی جانب سے عالمی برادری کے جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

 

رپورٹس کے مطابق پہاڑی خطے پر واقع اسٹیپنکرٹ شہر 50 ہزار آبادی کا حامل ہے اور گزشتہ 4 روز سے شدید گولہ باری کا شکار ہے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد زیر زمین پناہ گاہوں میں چلی گئی اور کئی افراد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ شہر میں ہونے والی شیلنگ صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہوئی اور 4 شیل گرائے جاچکے ہیں۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شدید شیلنگ سے فلیٹس کے مختلف بلاکس کو نقصان پہنچا، جبکہ دعویٰ کیا کہ آذربائیجان کی فوج کلسٹر ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب آذربائیجان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فورسز نے بیلاغان، باردا اور تیرتر میں شیلنگ کی۔

دونوں فریقین نے لڑائی شروع ہونے سے اب تک 244 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 42 عام شہری شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ایک دوسرے کا بھاری جانی نقصان ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے گزشتہ روز اپنے بیان میں بلاامتیاز شیلنگ، شہروں اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں غیر قانونی حملوں کے دوران دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی شدید مذمت کی تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button